سچائی اور راست بازی کے برخلاف ہیں کیونکہ یہ باتیں بحیثیت ایک مدعا علیہ کے آپ کے منہ سے نکل رہی ہیں جو ہرگز قابل
اعتبار نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ بحیثیت ایک گواہ کے جلسہ عام میں حاضر ہوں یا چند ایسے خاص لوگوں کے جلسہ میں جن کی تعداد فریقین کی منظوری سے قائم ہو جائے آپ خوب سمجھتے ہیں کہ
فیصلہ کرنے کے لئے اخیری طریق حلف ہے، اگر آپ اس فیصلہ کی طرف رخ نہ کریں تو آپ کو حق نہیں پہنچتاؔ کہ آئندہ کبھی عیسائی کہلاویں مجھے حیرت پر حیرت ہے کہ اگر واقعی طور پر
آپ سچے اور مَیں مفتری ہوں تو پھر کیوں ایسے فیصلہ سے آپ گریز کرتے ہیں جو آسمانی ہوگا اور صرف سچے کی حمایت کرے گا اور جھوٹے کو نابود کر دے گا بعض نادان عیسائیوں کا یہ کہنا کہ
جو ہونا تھا ہوچکا عجیب حماقت اور بے دینی ہے وہ اس امر واقعی کو کیوں کر اور کہاں چھپا سکتے ہیں کہ وہ پہلی پیشگوئی دو پہلو پر مشتمل تھی پس اگر ایک ہی پہلو پر مدار فیصلہ رکھا جائے تو اس
سے بڑھ کر کون سی بے ایمانی ہو گی اور دوسرے پہلو کے امتحان کا وہی ذریعہ ہے جو الٰہی تفہیم نے میرے پر ظاہر کیا یعنی یہ کہ آپ قسم مؤکد بعذاب موت کھا جائیں اب اگر آپ قسم نہ کھائیں اور
یوں ہی فضول گو مدعا علیہوں کی طرح اپنی عیسائیت کا اظہار کریں تو ایسے بیانات شہادت کا حکم نہیں رکھتے بلکہ تعصب اور حق پوشی پر مبنی سمجھے جاتے ہیں سو اگر آپ سچے ہیں تو میں آپ
کو اس پاک قادر ذوالجلال کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ضرور تاریخ مقرر کر کے جلسہ عام یا خاص میں حسب شرح بالا قسم مؤکد بعذاب موت کھاویں تاحق اور باطل میں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے فیصلہ
ہوجائے۔
اب میں آپ کی اس مہمل تقریر کی جو آپ نے پرچۂ نور افشاں ۲۱ ؍ستمبر ۱۸۹۴ ء میں چھپوائی ہے حقیقت ظاہر کرتا ہوں کیا وہ ایک شہادت ہے جو فیصلہ کے لئے کارآمد ہوسکے
ہرگز نہیں وہ تو مدعا علیہوں کے رنگ میں ایک یک طرفہ