بیان ہے جس میں آپ نے جھوٹ بولنے اور حق پوشی سے ذرا خوف نہ کیا کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ یہ بیان بطور بیان شاہد قسم کے ساتھ مؤکد نہیں بلکہ جاہلوں کے لئے ایک طفل تسلی ہے پھر آپ زبان دبا کر یہ بھی اس میں اشارہ کرتے ہیں کہ میں عام عیسائیوں کے عقیدہ ابنیت والوہیت کے ساتھ متفق نہیں اور نہ میں ان عیسائیوں سے متفق ہوں جنہوں نے آپ کے ساتھ کچھ بے ہودگی کی اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ قریب ستر برس کی میری عمر ہے اور پہلے اس سے اسی سال کے کسی پرچہ نور افشاں میں چھپا تھا کہ آپ کی عمر چونسٹھ برس کے قریب ہے پس میں متعجب ہوں کہ اس ذکر سے کیا فائدہ کیا آپ عمر کے لحاظ سے ڈرتے ہیں کہ شاید میں فوت ہو جاؤں مگر آپ نہیں سوچتے کہ بجز ارادہ قادر مطلق کوئی فوت نہیں ہوسکتا جبکہ میں بھی قسم کھا چکا اور آپؔ بھی کھائیں گے تو جو شخص ہم دونوں میں جھوٹا ہوگا وہ دنیا پر اثر ہدایت ڈالنے کے لئے اس جہان سے اٹھا لیا جائے گا۔ اگر آپ چونسٹھ برس کے ہیں تو میری عمر بھی قریباً ساٹھ کے ہوچکی دو خداؤں کی لڑائی ہے ایک اسلام کا اور ایک عیسائیوں کا پس جو سچا اور قادر خدا ہوگا وہ ضرور اپنے بندہ کو بچا لے گا۔ اگر آپ کی نظر میں کچھ عزت اس مسیح کی ہے جس نے مریم صدیقہ سے تولّد پایا تو اس عزت کی سفارش پیش کر کے پھر میں آپ کو خداوند قادر مطلق کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اس اشتہار کے منشاء کے موافق عام مجلس میں قسم مؤکد بعذاب موت کھاویں یعنی یہ کہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں نے پیشگوئی کی میعاد میں اسلامی عظمت اور صداقت کا کچھ اثر اپنے دل پر نہیں ڈالا اور نہ اسلامی پیشگوئی کی حقّانی ہیبت میرے دل پر طاری ہوئی اور نہ میرے دل نے اسلام کو حقّانی مذہب خیال کیا بلکہ میں درحقیقت مسیح کی ابنیت اور الوہیت اور کفارہ