نے مجھے یہ اطلاع دی ہے کہ جو انسان کے دل کے تصورات کو جانتا اور اس کے پوشیدہ خیالات کو دیکھتا* ہے اور اگر
میں اس بیان میں حق پر نہیں تو خدا مجھ کو آپ سے پہلے موت دے۔ پس اسی وجہ سے میں نے چاہا کہ آپ مجلس عام میں قسم غلیظ مؤکد بعذاب موت کھاویں ایسے طریق سے جو میں بیان کر چکا ہوں
تامیرا اور آپ کا فیصلہ ہو جائے اور دنیا تاریکی میں نہ رہے اور اگر آپ چاہیں گے تو میں بھی ایک برس یا دو برس یا تین برس کے لئے قسم کھا لوں گا۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ سچا ہرگز برباد نہیں
ہوسکتا بلکہ وہی ہلاک ہوگا جس کو جھوٹ نے پہلے سے ہلاک کر دیا ہے۔ اگر صدق الہام اور صدق اسلام پر مجھے قسم دی جائے تو میں آپ سے ایک پیسہ نہیں لیتا لیکن آپ کے قسم کھانے کے وقت تین
ہزار کے بدرے پہلے پیش کئے جائیں گے یا تحریر باضابطہ لے کر پہلے ہی دے دیئے جائیں گے اگر میں روپیہ دینے میں ذرہ بھی توقف کروں تو اسی مجلس میں جھوٹا ٹھہر جاؤں گا مگر وہ روپیہ ایک
سال تک بطور امانت آپ کے ضامنوں کے پاس رہے گا۔ پھر آپ زندہ رہے تو آپ کی مِلک ہو جائے گا۔ اور اگر اس کے سوا میرے لئے میرے کاذب نکلنے کی حالت میں سزائے موت بھی تجویز ہو تو بخدا
اس کے بھگتنے کے لئے بھی تیار ہوں مگر افسوس سے لکھتا ہوں کہ اب تک آپ اس قسم کے کھانے کے لئے آمادہ نہیں ہوئے اگر آپ سچے ہیں اور میں ہی جھوٹا ہوں تو کیوں میرے روبرو جلسہ عام
میں قسم مؤکد بعذاب موت نہیں کھاتے مگر آپ کی یہ تحریریں جو اخباروں میں کہ یا خطوط کے ذریعہ سے آپ شائع کر رہے ہیں بالکل
*نوٹ: بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ الہام پندرہ مہینہ کے
اندر کیوں شائع نہ کیا سو واضح ہو کہ پندرہ مہینہ کے اندر ہی یہ الہام ہو چکا تھا پھر جبکہ الہام نے اپنی صداقت کا پورا ثبوت دے دیا تو ثابت شدہ امر کا انکار کرنا بے ایمانی ہے۔ منہ