ہوگا اور اس صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جیسا کہ اکثروں کا خیال ہے کہ جو تحریریں آتھم صاحب کی طرف سے نور افشاں میں شائع کی گئیں ہیں یا جو ان کے خطوط بعضوں کو پہنچے ہیں یہ باتیں ان کے دل و دماغ سے نہیں نکلیں بلکہ طوطے کی طرح ان کے منہ سے نکلوائی گئیں یا لکھوائی گئیں ہیں ورنہ ان کو معلوم نہیں کہ ان کے منہ سے کیا نکلا یا ان کے قلم نے کیا لکھا کیونکہ جبکہ حواس میں خلل ہے تو کسی بات پر کیا اعتماد۔ دوسرا حصّہ اس اشتہار کا خاص طور پر آتھم صاحب کی خدمت میں بطور خط کے ہے اور وہ یہ ہے ازطرف عبد اللہ الاحد احمد عافاہ اللہ و ایّد۔ آتھم صاحب کو معلوم ہو کہ میں نے آپ کا وہ خط پڑھا جو آپ نے نور افشاں ۲۱ ؍ستمبر ۱۸۹۴ ؁ء کے صفحہ ۱۰ میں چھپوایا ہے مگر افسوس کہ آپ اس خط میں دونوں ہاتھ سے کوشش کر رہے ہیں کہ حق ظاہر نہ ہو میں نے خدا تعالیٰ سے سچا اور پاک الہام پاکر یقینی اور قطعی طور پر جیسا کہ آفتاب نظر آجاتا ہے معلوم کر لیا ہے کہ آپ نے میعاد پیشگوئی کے اندر اسلامی عظمتؔ اور صداقت کا سخت اثر اپنے دل پر ڈالا اور اسی بناء پر پیشگوئی کے وقوع کا ہم و غم کمال درجہ پر آپ کے دل پر غالب ہوا۔ میں اللہ جلّ شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ بالکل صحیح ہے اور خدا تعالیٰ کے مکالمہ سے مجھ کو یہ اطلاع ملی ہے اور اس پاک ذات