ایام پیشگوئی میں ڈرتے رہے پس ان کا یہ دعوے کہ وہ عظمت حق کے خوف سے نہیں ڈرے بلکہ قتل کئے جانے سے ڈرے اس دعوے کا بار ثبوت قانوناً و انصافاًانہیں کے ذمہ تھا جس سے وہ سبکدوش نہیں ہوسکے لہٰذا ہمارے لئے یہ قانونی حق حاصل ہے کہ ایک قابل اطمینان ثبوت کے لئے ان کو قسم پر مجبور کریں اور ان پر قانوناً واجب ہے کہ وہ اس طریق فیصلہ سے گریز نہ کریں جس طریق سے پورے طور پر ان کے سر پر سے ہمارا شبہ اور الزام اٹھ جائے۔ یہی وہ طریق ہے جس کو قانون و انصاف چاہتا ہے۔ اب تم خواہ کسی وکیل یا بیرسٹر یا جج کو بھی پوچھ کر دیکھ لو ہاں اگر آتھم صاحب اب حسب تجویز قرار دادہ ہماری کے قسم کھا لیں تو بلا شبہ ان کی صفائی ہوجائے گی اور اگر قسم کے ضرر سے بچ گئے تو ثابت ہو جائے گا کہ وہ واقعی طور پر اسلامی پیشگوئی سے ذرہ نہیں ڈرے بلکہ وہ اس لئے خائف رہے کہ ان کو یہ پرانا تجربہ تھا کہ یہ عاجز خونی آدمی ہے ہمیشہ ناحق کے خون کرتا رہا ہے لہٰذا اب ان کا بھی ضرور خون کر دے گا۔ قولہ اس قسم کی تحدی اور پھر خفی طریقوں سے اس کا ثبوت۔ اقول عقلمند کے لئے یہ خفی طریقہ نہیں جس حالت میں پندرہ مہینہ تک آتھم صاحب کے خوف کے قصے اور ان کی سراسیمگی کی حالت دنیا میں مشہور ہوگئی پھر اب تک وہ زبان سے بھی رو رو کر اقرار کرتے ہیں کہ میں ضرور ڈرتا رہا مگر تلواروں کا خوف تھا گویا کسی راجہ یا نواب یا کسی ڈاکو نے ان کو قتل کی دھمکی دی تھی اور جب کہا جاتا ہے کہ یہ کمال درجہ کا خوف جو آپ سے ظاہر ہوا اگر یہ تلوار کا خوف تھا سچے دین کی عظمت اور قہر الٰہی کا خوف نہیں تھا تو آپ قسم کھالیں کیونکہ اب آپ کے یہ دل کا بھید بجز قسم کے فیصلہ نہیں پاسکتا تو آپ قسم کھانے سے کنارہ کر رہے ہیں نہ ہزار روپیہ لیں نہ دو ہزار روپیہ اب اسی غرض سے تین ہزار روپیہ کا اشتہار جاری کیا گیا مگر قسم کی اب بھی امید