دیوے پس جبکہ ہماری پیشگوئی کے بعد یہ سارا خوف تھا جس کے وہ خود اقراری ہیں جس کو یاد کر کے اب بھی وہ زار زار روتے ہیں تو ہمارا یہ حق ہے کہ ہم ان کی اس تاویل کو لا نسلم کی مَدمیں رکھ کر ان سے وہ ثبوت مانگیں جو موجب تسلی ہو کیونکہ جب کہ وہ نفس خوف کے خود اقراری ہیں تو ہمیں انصافاًو قانوناً حق پہنچتا ہے کہ ان سے وہ قسم غلیظ لیں جس کے ذریعہ سے وہ حق بیان کر سکیں اور بغیر قسم کے ان کے بیانات لغو ہیں کیونکہ وہ باتیں بحیثیت مدعا علیہ کے ہیں۔ قولہ آتھم صاحب کے ذمہ اس طرح پر قسم کھانا انصافاًضروری نہیں۔ اقول جبکہ آتھم صاحب کے وہ حالات جو پیشگوئی کی میعاد میں ان پر وارد ہوئے جنہوں نے ان کو مارے خوف کے دیوانہ سا بنا دیا تھا بلند آواز سے پکار رہے ہیں کہ ایک ڈرانے والا اثر ضرور ان کے دل پر وارد ہوا تھا اور پھر بعد اس کے ان کی زبان کا اقرار بھی نور افشاں میں چھپ گیا کہ وہ ضرور اس عرصہ میں خوف اور ڈر کی حالت میں رہے اور جو ڈر کے وجوہ انہوں نے بیان کئے ہیں وہ ایسا دعویٰ ہے جس کو ثابت نہیں کرسکے۔ پس اس صورت میں وہ خود انصافاًو قانوناً اس مطالبہ کے نیچے آگئے کہ وہ اس الزام سے قسم کے ساتھ اپنی بریت ظاہر کریں جو خود ان کے افعال اور ان کے بیان سے شبہ کے طور پر ان کے عاید حال ہوتا ہے پس ان کی بریت اس شبہ سے جس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے آپ پیدا کیا اسی میں ہے کہ وہ ایسی قسم جو مجھ مدعی کو مطمئن کرسکتی ہو یعنی میرے منشا کے موافق ہو جلسہ عام میںؔ کھالیں اور یاد رہے کہ درحقیقت ان کے ایسے افعال سے جوان کی خوفناک حالت پر اور ان کے ڈر سے بھرے ہوئے دل پر پندرہ مہینہ تک گواہی دیتے رہے اور ان کے ایسے بیان سے جو رو رو کر اس زمانہ کی نسبت بتلایا جو نور افشاں ماہ ستمبر ۱۸۹۴ ؁ء میں چھپ گیا۔ یہ امر قطعی طور پر ثابت ہوگیا ہے کہ وہ ضرور