نہیں۔ تو اب انصافاًفرمایئے کہ کیا اب بھی ہمارے ثبوت کا طریقہ پوشیدہ ہے دشمن تو اسی وقت سے پکڑا گیا کہ جب اس نے خوف کا اقرار کر کے پھر قسم کھانے سے انکار کیا اور آپ کو یاد ہوگا کہ حدیبیہ کے قصہ کو خدا تعالیٰ نے فتح مبین کے نام سے موسوم کیا ہے اور فرمایاہے۔۔۱؂ وہ فتح اکثر صحابہ پر بھی مخفی تھی بلکہ بعض منافقین کے ارتداد کی موجب ہوئی مگرؔ دراصل وہ فتح مبین تھی گو اس کے مقدمات نظری اور عمیق تھے پس دراصل یہ فتح بھی حدیبیہ کی فتح کی طرح نہایت مبارک فتح اور بہت سی فتوحات کا مقدمہ اور بعض کے لئے موجب ابتلاء اور بعض کے لئے موجب اصطفاء ہے اور اس پیشگوئی کو بھی پوری کرتی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں کہ ا لحق فی آل محمّد اور ا لحق فی آل عیسٰی اور جو لوگ ابتلاء میں گرفتار ہوئے انہوں نے اپنی بدنصیبی سے اس پیشگوئی کے سارے پہلو غور سے نہیں دیکھے اور قبل اس کے جو غور کریں محض جہالت اور سادگی سے اپنی کم عقلی کا پردہ فاش کر دیا اور کہا کہ یہ پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوئی۔ اگر وہ اس سنت اللہ سے خبر رکھتے جس کو قرآن کریم نے پیش کیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۲؂ الجزو نمبر ۲۵ سورۃ الزخرف تو جلدی کر کے اپنے تئیں ندامت کے گڑھے میں نہ ڈالتے مگر ضرور تھا کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اس زمانہ کے لئے پہلے سے فرمایا تھا وہ سب پورا ہوا اور دوسرا دھوکا ان کچے معترضوں کو یہ بھی لگا کہ وہ پیشگوئی کی عظمت اور کمال ظہور کو صرف اسی حد تک ختم کر بیٹھے حالانکہ جس الہام پر اس پیشگوئی کی کیفیت مبنی ہے اس میں یہ فقرات بھی ہیں۔ اطلع اللّٰہ علی ھمہ وغمہ و لن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا۔ و لا تعجبوا و لا تحزنوا و انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین۔ و بعزتی و جلالی انک انت الاعلی۔ و نمزق الاعداء کل ممزق۔ و مکر اولئک ھو یبور۔ انا نکشف