کہ امن کی حالت میں اپنے کفر کی حمایت کرکے حق کو چھپانا اور اپنے مخالفانہ دلائل کو کمزور سمجھ کر پھر بھی بحث کے وقت انہیں کو فروغ دینا اور اسلامی دلائل کو بہت قوی پاکر پھر بھی ان سے عمدًا حق پوشی کی راہ سے منہ پھیرنا یہ اور بات ہے لیکن خوف کے دنوں میں درحقیقت اسلامی صداقت کا خوف اپنے دل پر ڈال لینا یہاں تک کہ شدت خوف سے دیوانہ سا ہو جانا یہ اور چیز ہے اور دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور موجب التواء عذاب شق دوم ہے نہ شق اول۔ (۵) پانچواں اعتراض۔ یہ ہے کہ ایک سال کی میعاد کی کیا ضرورت ہے خدا ایک دن میں جھوٹے کو مار سکتا ہے الجواب: ہاں بے شک خدائے قادر ذوالجلال ایک دن میں کیا بلکہ ایک طرفۃ العین میں مار سکتا ہے مگر جب اس نے الہامی تفہیم سے اپنا ارادہ ظاہر کر دیا تو اس کی پیروی کرنا لازم ہے کیونکہ وہ حاکم ہے مثلاً وہ اپنی قدرت کے رو سے ایک دن میں انسان کے نطفہ کو بچہ بنا سکتا ہے لیکن جب اس نے اپنے قانون قدرت کے ذریعہ سے ہمیں سمجھا دیا کہ یہی اس کا ارادہ ہے کہ نو مہینہ میں بچہ بناوے تو بعد اس کے نہایت چالاکی اور گستاخی ہوگی کہ ہم ایسا اعتراض کریں کیا ہمیں خدا تعالیٰ کے ارادوں اور حکموں کی پیروی کرنا لازم ہے یا یہ کہ اپنے ارادوں کا اس کو پیرو بناویں اس کی قدرت تو دونوں پہلو رکھتی ہے چاہے تو ایک طرفۃ العین میں کسی کو ہلاک کردے اور چاہےؔ تو کسی اور مدت تک مثلاً ایک سال تک کسی پر موت وارد کرے اور پھر جب اسی کی تفہیم سے معلوم ہوا کہ اپنی قدرت کے وارد کرنے میں اس نے ایک سال کی مدت کو ارادہ کیا ہے تو یہ کہنا سخت بے جا ہے کہ یہ ارادہ اس کی قدرت کے مخالف ہے صدہا کام ہیں جو وہ ایک دم میں کرسکتا ہے مگر نہیں کرتا دنیا کو بھی چھ دن میں بنایا اور کھیتوں کو بھی اس مدت تک پکاتا ہے جو اس نے مقرر کر رکھی ہے اور ہر اک شے کے لئے اس کے قانون قدرت میں اجل مقرر ہے پس قانون الہام بھی اسی قانون قدرت کے مشابہ صفات باری کو ظاہر کرتا ہے لیکن یہ سیاپا ایسے لوگ کیوں کر رہے ہیں جو حضرت مسیح کو