قادر مطلق خیال کرتے ہیں کیا ان کا وہ مصنوعی خدا ایک سال تک آتھم صاحب کو بچا نہیں سکتا حالانکہ ان کی عمر بھی کچھ ایسی بڑی نہیں ہے بلکہ میری عمر سے صرف چند سال ہی زیادہ ہیں پھر اس مصنوعی خدا پر کون سی ناتوانی طاری ہو جائے گی کہ ایک سال تک بھی ان کو بچا نہیں سکے گا ایسے خدا پر نجات کا بھروسہ رکھنا بھی سخت خطرناک ہے جو ایک سال کی حفاظت سے بھی عاجز ہے کیا ہم نے عہد نہیں کیا کہ ہمارا خدا اس سال میں ضرور ہمیں مرنے سے بچائے گا اور آتھم صاحب کو اس جہان سے رخصت کر دے گا کیونکہ وہی قادر اور سچا خدا ہے جس سے بدنصیب عیسائی منکر ہیں اور اپنے جیسے انسان کو خدا بنا بیٹھے ہیں تبھی تو بزدل ہیں اور ایک سال کے لئے بھی اس پر بھروسہ نہیں آسکتا اور سچ ہے باطل معبودوں پر بھروسہ کیونکر ہوسکے اور نور فطرت کیونکر گواہی دیوے کہ ایسا عاجز معبود ایک سال تک بچا سکے گا بلکہ ہم نے تو اشتہار ۲۰؍ ستمبر ۱۸۹۴ ؁ء میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ اگر آتھم صاحب اپنے مصنوعی خدا کو ایسا ہی کمزور اور گیا گذرا یقین کر بیٹھے ہیں تو اتنا کہہ دیں کہ وہ ابن اللہ کے نام کا خدا ایک سال تک مجھے بچا نہیں سکتا تو ہم اس اقرار کے بعد تین دن ہی منظور کر لیں گے مگر وہ کسی طرح میدان میں نہیں آویں گے کیونکہ جھوٹے کو اپنے جھوٹ کا دھڑکا شروع ہوجاتا ہے اور سچے کے مقابل پر آنا اس کو ایک موت کا مقابلہ معلوم ہوتا ہے۔ ( ۶) چھٹا اعتراض۔ یہ ہے کہ کیا خدا آتھم کے منافقانہ رجوع سے اپنے زبردست وعدہ کو ٹال سکتا تھا حالانکہ وہ خود ہی فرماتا ہے۔3 ۔۱؂ یعنی جب وعدہ پہنچ گیا تو کسی جان کو مہلت نہیں دی جاتی۔ الجواب آپ سن چکے ہیں کہ وہ وعدہ خدا تعالیٰ کے الہام میں قطعی وعدہ نہ تھا اور نہ فیصلہ ناطق تھا بلکہ مشروط بشرط تھا اور بصورت پابندی شرط کے وہ شرط قرار دادہ بھی ؔ وعدہ میں داخل تھی۔ سو آتھم نے خوف کے دنوں میں بے شک حق کی طرف رجوع کیا اور وہ رجوع منافقانہ نہیں تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق موت میں تاخیر ڈال دی۔ افسوس کہ نادان لوگ اس بات