آفت پڑی کیوں اب تجربہ کے بعد مقابل پر نہیں آتے یہی سبب ہے کہ انہیں میرے الہام کی حقیقت معلوم ہے دوسرے احمق
عیسائی اور مسلمان نہیں جانتے مگر وہ خوب جانتے ہیں۔
ناظرین! کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ میدان میں قسم کھانے کے لئے آجائیں گے ہرگز نہیں آئیں گے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ کبھی جھوٹے بھی
ایسی بہادری دکھلاتے ہیں جو ایمانی قوت پر مبنی ہو ان کے تو ڈر ڈر کے دست نکلتے رہے غشی پر غشی طاری ہوتی رہی سو خدا نے جو سزا دینے میں دھیما اور رحم میں سب سے بڑھ کر ہے اپنی
الہامی شرط کے موافق ان سے معاملہ کیا اب چڑیا اپنے پنجرہ سے نکلی ہوئی پھر کیونکر اسیؔ پنجرہ میں داخل ہوجائے۔ پیارے ناظرین! کیا تم ہماری تحریروں کو غور سے نہیں دیکھتے کیا سچائی
کی شوکت تمہیں ان کے اندر معلوم نہیں ہوتی کیا نور فراست تمہارا گواہی نہیں دیتا کہ یہ ایمانی قوت اور شجاعت اور یہ استقلال دروغگو سے کبھی ظاہر نہیں ہوسکتا کیا میں پاگل ہوگیا یا میں دیوانہ
ہوں کہ اگر قطعی طور پر مجھے علم نہیں دیا گیا تو یوں ہی تین ہزار روپیہ برباد کرنے کو تیار ہوگیا ہوں۔ ذرہ سوچو اور اپنے صحیح وجدان سے کام لو اور یہ کہنا کہ کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس
کا اثر عبد اللہ آتھم پر ہوا ہو کس قدر صداقت کا خون کرنا ہے اگر اثر نہیں تھا تو کیوں آتھم صاحب چوروں کی طرح بھاگتے پھرے اور کیوں اپنی سچائی کی بنا پر اب قسم کھانے کے لئے میدان میں نہیں
آتے خط پر خط رجسٹری کراکر بھیجے گئے وہ مردے کی طرح بولتے نہیں۔
(۴) چوتھا اعتراض۔ یہ ہے کہ ایک صاحب اپنے اشتہار میں مجھ کو مخاطب کرکے لکھتے ہیں کہ تم نے مباحثہ میں
آتھم صاحب کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ تم عمداً حق کو چھپا رہے ہو پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ اس وقت بھی بقول تمہارے اسلام کو حق جانتے تھے پس پیشگوئی کی میعاد میں کون سی نئی بات ان
سے ظہور میں آئی الجواب جاننا چاہیئے
بقیہ حاشیہ: پاکر پھر بھی قسم سے انکار اور گریز ہے تو عیسائیوں کی فتح کیا ہوئی کیا تمہاری ایسی تیسی سے۔ منہ