عذاب دنیوی سے رہائی پانے کے لئے مفید ہے جیسا کہ قرآن کریم نے اس بارہ میں بار بار مثالیں پیش کی ہیں اور بارہا فرمایا ہے
کہ ہم نے خوف اور تضرع کے وقت کفار کو عذاب سے نجات دے دی حالانکہ ہم جانتے تھے کہ وہ پھر کفر کی طرف عود کریں گے پس اسی قرآنی اصول کے موافق آتھم صاحب شدید خوف میں مبتلا
ہوکر کچھ دنوں کے لئے موت سے نجات پاگئے کیونکہ انہوں نے اس وقت عظمت اور صداقت اسلامی کو قبول کیا اور رد نہ کیا جیسا کہ علاوہ ہمارے الہام کے ان کا پریشان حال ان کی اس اندرونی
حالت پر گواہ رہا اور اگر یہ باتیں صحیح نہیں ہیں اور اسلام کا خدا ان کے نزدیک سچا خدا نہیں تو قسم کھانے سے کیوں وہ بھاگتے ہیں اور کون سا پہاڑ ان پر گرے گا جو انہیں کچل ڈالے گا کیا وہ
تجربہ نہیں کر چکے جو ہم جھوٹے ہیں پس جھوٹوں کے مقابل پر تو پہلے سے زیادہ دلیری کے ساتھ میدان میں آنا چاہیئے* مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی جھوٹے اور ان کا مذہب جھوٹا اور ان کی ساری
باتیں جھوٹی ہیں اور اس پر یہی دلیل کافی ہے کہ جیسا کہ جھوٹے بزدل اور ہراساں ہوتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ اپنے جھوٹ کی شامت سے سچ مچ مر ہی نہ جائیں یہی حال ان کا ہو رہا ہے اگر آتھم
صاحب پندرہ مہینہ کے تجربہ سے مجھے کاذب معلوم کرلیتے تو ان سے زیادہ میرے مقابل پر اور کوئی بھی دلیر نہ ہوتا اور وہ قسم کھانے کے لئے مستعد ہوکر اس طرح میدان میں دوڑ کر آتے کہ
جس طرح چڑیا کے شکار کی طرف باز دوڑتا ہے۔ مطالبہ قسم پر ان کو باغ باغ ہو جانا چاہیئے تھا کہ اب جھوٹا دشمن قابو میں آگیا مگر یہ کیا
*حاشیہ: بعض مخالف مولوی نام کے مسلمان اور ان
کے چیلے کہتے ہیں کہ جب کہ ایک مرتبہ عیسائیوں کی فتح ہوچکی تو پھر بار بار آتھم صاحب کا مقابلہ پر آنا انصافاً اُن پر واجب نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اے بے ایمانو نیم عیسائیو دجال کے
ہمراہیو اسلام کے دشمنو کیا پیشگوئی کے دو پہلو نہیں تھے پھر کیا آتھم صاحب نے دوسرے پہلو رجوع الی الحق کے احتمال کو اپنے افعال اور اپنے اقوال سے آپ قوی نہیں کیا۔ کیا وہ نہیں ڈرتے رہے
کیا انہوں نے اپنی زبان سے ڈرنے کا اقرار نہیں کیا پھر اگر وہ ڈر انسانی تلوار سے تھا نہ آسمانی تلوار سے تو اس شبہ کے مٹانے کے لئے کیوں قسم نہیں کھاتے پھر جبکہ اس طرف سے ہزارہا روپیہ
کے انعام کا وعدہ نقد کی طرح