موت سے غم کرنا صریح اس امر کا ثبوت ہے کہ اپنے خدا کے کامل اقتدار پر ایمان نہیں حضرت یہ تو دو خداؤں کی لڑائی ہے
اب وہی غالب ہوگا جو سچا خدا ہے۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے خدا کی ضرور یہ قدرت ظاہر ہوگی کہ اس قسم والے برس میں ہم نہیں مریں گے لیکن اگر آتھم صاحب نے جھوٹی قسم کھا لی تو ضرور
فوت ہو جائیں گے تو جائے انصاف ہے کہ آتھم صاحب کے خدا پر کیا حادثہ نازل ہوگا کہ وہ ان کو بچا نہیں سکے گا اور منجی ہونے سے استعفیٰ دے دے گا۔ غرض اب گریز کی کوئی وجہ نہیں یا تو
مسیح کو قادر خدا کہنا چھوڑیں اور یا قسم کھا لیں۔ ہاں اگر عام مجلس میں یہ اقرار کردیں کہ ان کے مسیح ابن اللہ کو برس تک زندہ رکھنے کی تو قدرت نہیں مگر برس کے تیسرے حصہ یا تین دن تک
البتہ قدرت ہے اور اس مدت تک اپنے پرستار کو زندہ رکھ سکتا ہے تو ہم اس اقرار کے بعد چار مہینہ یا تین ہی دن تسلیم کر لیں گے اگر اب بھی یہ دو ہزار روپیہ کا اشتہار پاکر منہ پھیر لیا تو ہر یک
جگہ ہماری کامل فتح کا نقارہ بجے گا اور عیسائی اور نیم عیسائی سب ذلیل اور پست ہو جائیں گے اور ہم اس اشتہار کے روز اشاعت سے بھی ایک ہفتہ کی میعاد آتھم صاحب کو دیتے ہیں اور باقی وہی
شرائط ہیں جو اشتہار ۹ ؍ستمبر ۱۸۹۴ ء میں بتصریح لکھ چکے ہیں والسلام علٰی من اتبع الہدٰی۔
المشتھر
میرزا غلام احمد قادیانی ۲۰؍ ستمبر ۱۸۹۴ ء
مطبوعہ ریاض ہند پریس
امرتسر