موت کی گرفت سے کوئی بھی باہر نہیں اگر آتھم صاحب چوسٹھ برس کے ہیں تو عاجز قریباً ساٹھ برس کا ہے اور ہم دونوں پر قانون قدرت یکساں مؤثر ہے لیکن اگر اسی طرح کی قسم کسی راستی کی آزمائش کے لئے ہم کو دی جائے تو ہم ایک برس کیا دس برس تک اپنے زندہ رہنے کی قسم کھا سکتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ دینی بحث کے وقت میں ضرور خدا تعالیٰ ہماری مدد کرے گا اور ایسا شخص تو سخت بے ایمان اور دہریہ ہوگا کہ جس کو ایسی بحث میں یہ خیال آوے کہ شاید میں اتفاقاً مر جاؤں کیا زندہ رہنا اور مرنا اس کے خدا کے ہاتھ نہیں۔ کیا بغیر حکم حاکم کے یوں ہی اتفاقی طور پر لوگ مرجاتے ہیں۔ اور نیز اتفاق اور امکان تو دونوں پہلو رکھتا ہے مرنا اور نا مرنا بھی بلکہ نامرنے کا پہلو قوی اور غالب ہے کیونکہ مر جانا تو ایک نیا حادثہ ہے جو ہنوز معدوم ہے اور زندہ رہنا ایک معمولی امر ہے جو موجود بالفعل ہے پھر بقیہ حاشیہ:بھول گئی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک فتنہ ہوگا جس میں عیسائی کہیں گے کہ ہماری فتح ہوئی اور مہدی کے لوگ کہیں گے کہ ہماری فتح ہوئی اور عیسائیوں کیلئے شیطان گواہی دے گا کہ الحق فی آل عیسٰی اور مہدی کے لوگوں کیلئے رحمان گواہی دے گا کہ الحق فی آل محمد۔ سو اب سوچو کہ وہی وقت آگیا۔ عیسائیوں نے شیطانی مکائد سے پنجاب اور ہندوستان میں کیا کچھ نہ کیا۔ یہی شیطانی آواز ہے اب رحمانی آواز کے منتظر رہو۔ والسلام علٰی من اتبع الہدٰی۔ یقیناًؔ سمجھنا چاہیے کہ ہمارا الہام کی رو سے آتھم صاحب کی پوشیدہ حالت پر اطلاع پانا کہ انہوں نے ضرور اسلامی عظمت اور صداقت کی طرف رجوع کیا ہے آتھم صاحب کے واسطے ایک نشان ہے اور اگرچہ کوئی دوسرا سمجھے یا نہ سمجھے مگر آتھم صاحب کا دل ضرور گواہی دے گا کہ یہ وہ پوشیدہ امر ہے جو ان کے دل میں تھا اور خدا تعالیٰ نے جو علیم و حکیم ہے اپنے بندہ کو اس سے اطلاع دی اور ان کے اس غم وہم سے مطلع فرمایا جو محض اسلامی شوکت اور صداقت کے قبول کرنے کی وجہ سے تھا نہ کسی اور وجہ سے اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ میرے سامنے ہرگز مقابل پر نہیں آئیں گے کیونکہ میں صادق ہوں اور الہام سچا ہے۔ منہ