کہتے ہیں کہ کون مارے گا کیا ان کا خداوند مسیح یا اورکوئی پسؔ جبکہ یہ دو خداؤں کی لڑائی ہے ایک سچا خدا جو ہمارا خدا
ہے اور ایک مصنوعی خدا جو عیسائیوں نے بنا لیا ہے۔ تو پھر اگر آتھم صاحب حضرت مسیح کی خدائی اور اقتدار پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ آزما بھی چکے ہیں تو پھر ان کی خدمت میں عرض کر دیں کہ
اب اس قطعی فیصلہ کے وقت میں مجھ کو ضرور زندہ رکھیو۔ یوں تو
بقیہ حاشیہ: کہ نہ تو وہ اس خلاف حق کلمہ سے منہ بند کریں کہ اسلام اور عیسائیت کی بحث میں عیسائیوں کی فتح ہوئی۔ اور
نہ مسٹر آتھم صاحب کو قسم کھانے پر آمادہ کریں۔ اور وجہ اعتراض یہ بیان کی گئی ہے کہ آتھم صاحب پر ہمارا کچھ زور اور حکم تو نہیں تاخواہ نخواہ قسم کھانے پر ان کو مستعد کریں۔ تو اس کا
جواب یہی ہے کہ اے بے ایمانو اور دل کے اندھو اور اسلام کے دشمنو اگر آتھم صاحب قسم کھانے سے گریز کر رہے ہیں تو اس سے کیا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یا یہ نتیجہ کہ
درحقیقت آتھم صاحب نے دل میں اسلام کی طرف رجوع کر لیا ہے۔ تبھی تو وہ جھوٹی قسم کھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ جبکہ تم نیم عیسائی ہوکر بدل و جان زور لگا رہے ہو کہ آتھم صاحب کسی طرح
اقرار کر دیں کہ میں درحقیقت ایام میعاد پیشگوئی میں اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن رہا اور عاجز انسان کو خدا جانتا رہا۔ تو پھر اگر آتھم صاحب درحقیقت پکے عیسائی اور دشمن اسلام ہیں۔
تو ان کو ایسی قسم سے کون روکتا ہے جس کے کھانے کے ساتھ دو ہزار روپیہ نقد ان کو ملے گا اور جسؔ کے نہ کھانے سے یہ ثابت ہوگا کہ عظمت اسلام ضرور ان کے دل میں سما گئی۔ اور عیسائیت
کے باطل اصول ان کی نظر میں حقیر اور مکروہ معلوم ہوئے اے نیم عیسائیو ذرہ اور زور لگاؤ۔ اور آتھم صاحب کے پیروں پر سر رکھ دو شاید وہ مان لیں اور یہ پلید *** تم سے ٹل جائے۔ ہائے افسوس
عیسائی گریز کریں اور تم اصرار کرو عجیب سرشت ہے۔ اے نیم عیسائیو آج تم نے وہ پیشگوئی پوری کردی۔ جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو ستر ہزار میری امت میں سے
دجّال کے ساتھ مل جائے گا۔ سو آج تم نے دجالوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملا دی تا جو اس پاک زبان پر جاری ہوا تھا وہ پورا ہو جائے۔ تمہیں وہ حدیث بھی