خیر اب ہم الزام پر الزام دینے کے لئے ایک اور ہزار روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور یہ دو ہزار روپیہ کا اشتہار جو ہماری صداقت
کے لئے بطور گواہ ثالث ہے جاری کرتے ہیں اور ہمارے مخالف یاد رکھیں کہ اب بھی آتھم صاحب ہرگز قسم نہیں کھائیں گے کیوں نہیں کھائیں گے اپنے جھوٹا ہونے کی وجہ سے اور یہ کہنا کہ شاید
ان کو یہ دھڑکا ہو کہ ایک برس میں مرنا ممکن ہے۔ پس ہم
بقیہ حاشیہ: نشان کے دیکھنے سے ضرورؔ اپنے عقائد کی اصلاح کر لیں گے یعنی دین اسلام قبول کر لیں گے۔ سو یہ خط بھی ایک گواہ ان
کی اندرونی حالت کا ہے کہ وہ سچائی کے قبول کرنے کیلئے پہلے ہی سے مستعد تھے۔ پھر جب یہ الہام اپنے پُر رعب مضمون میں انہیں کے بارہ میں ہوا اور انہیں پر پڑا۔ اور الہام بھی موت کا الہام
جو بالطبع ہر یک پر گراں گزرتی ہے۔ اور ہریک اپنی چند روزہ زندگی کو عزیز رکھتا ہے۔ اور یہ اپنے اسلام لانے کا وعدہ انہوں نے اس وقت کیا تھا کہ جب انہیں اس بات کا خیال بھی نہیں تھا کہ وہ
نشان مطلوب انہیں کی موت کے بارے میں ہوگا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کریں۔ اور وہ الہام نہایت شد و مد اور تاکید سے اور ایسے پر زور الفاظ میں سنایا گیا جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ تو
کیا یہ نہایت قریب قیاس نہیں کہ ایسے مستعد اور قابل انفعال دل پر ایسی پرزور تقریر نے بہت ُ برا اثر کیا ہوگا۔ اور انہوں نے ایسے منذر الہام کو سن کر ضرور متاثر ہوکر اندر ہی اندر اپنی اصلاح
کی ہوگی جیسے ان کے دوسرے مضطربانہ حالات بھی اس پر شاہد ہیں اور نیز اس خط سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ وہ ہرگز تثلیث اور مسیح کے خون اور کفارہ پر مطمئن نہیں تھے۔ کیونکہ ایک
ایسا شخص جو اپنے عقائد پر سچے دل سے مطمئن ہو وہ ہرگز یہ بات زبان پر نہیں لاسکتا کہ بعض نشانوں کے دیکھنے سے ان عقائد کو ترک کر دوں گا۔ اصل خط ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہمارے پاس
موجود ہے۔ جو صاحب شک رکھتے ہیں دیکھ لیں۔ منہ
ّ حل الاشکال: بعض مخالف مولوی صاحبوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ ایک دشنام دہی کی قسم ہے کہ مخالف مولویوں اور ان کے پیروؤں کو
اس طور سے اور اس شرط سے بداصل اور ولد الحرام قرار دیا ہے