اپنے دل میں اسلام کی طرف رجوع کر لیا تھا تو اب منکر انہ قسم کھانے کے بعد ضرور بغیر تخلف اور بغیر استثناء کسی شرط کے ان پر موت آئے گی۔ غرض یہ فیصلہ تو نہایت ضرور ہے۔ اس سے وہ کہاں اور کیونکر گریز کرسکتے ہیں* اور اگر اب بھی باوجود اس دو ہزار روپیہ کے جو نقد بلا تکلیف حلوائے بے دُود کی طرح ان کو ملتا ہے قسم کھانے سے انکار کریں تو سارا جہان گواہ رہے کہ ہم کو فتح کامل ہوئی اور عیسائی کھلے طور پر شکست پا گئے اور ہمارا تو یہ حق تھا کہ اول دفعہ کے اشتہار پر ہی کفایت کرتے۔ کیونکہ جب ہزار روپیہ نقد دینے سے وہ قسم نہ کھا سکے تو صریح ان پر حجت پوری ہو گئی مگر ہم نے نہایت موٹی عقل کے لوگوں اور حاسدوں اور متعصبوں کی حالت پر رحم کر کے مکرر یہ دو ہزار روپیہ کا اشتہار بطور تیسرے گواہ اپنی صداقت کے جاری کیا ہے ہمارے مولوی مکفر جو عیسائیوں کی فتح کو بدل و جان چاہتے ہیں سب مل کر ان کو سمجھا ویں کہ ضرور قسم کھاویں اور ان کی بھی عزت رکھ لیں اور اپنی بھی۔ قطعی فیصلہ تو یہ ہے جو قسم کے کھانے یا انکار کرنے سے ہو نہ وہ یکطرفہ الہام جس کے ساتھ صریح شرط رجوع بحق کرنے کی لگی ہوئی تھی اور جس شرط پر عمل درآمد کا ثبوت آتھم صاحب نے اپنی خوفناک حالت دکھلانے سے آپ ہی دے دیا۔ بلکہ نور افشاں ۴ا ؍ستمبر ۱۸۹۴ ؁ء صفحہ ۱۲ پہلے ہی کالم کی پہلی ہی سطر میں ان کا یہ بیان لکھا ہے کہ میرا خیال تھا کہ شاید میں مار ابھی جاؤں گا۔ اسی کالم میں یہ بھی لکھا ہے کہ انہوں نے یہ باتیں کہہ کر رو دیا۔ اور رونے سے جتلا یا کہ میں بڑے دکھ میں رہا پس ان کا رونا بھی ایک گواہی ہے کہ ان پر اسلامی پیشگوئی کا بہت سخت اثر رہا ورنہ اگر مجھ کو کاذب جانتے تھے تو ایسی کیا مصیبت پڑی تھی جس کو یاد کر کے اب تک رونا آتا ہے پھر اب سب سے بڑھ کر گواہ یہ ہے کہ انہوں نے ہزار روپیہ لے کر قسم کھانا منظور نہیں کیا ورنہ جس شخص کو وہ پندرہ مہینے کے متواتر تجربہ سے جھوٹا ثابت کر چکے ہیں اس کے سراسر جھوٹ بیان کے رد کرنے کے لئے خواہ نخواہ غیرت جوش مارنی چاہیئے تھی اور چاہیئے تھا کہ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ قسم کھانے کو تیار ہو جاتے کیونکہ اپنے آپ کو سچا سمجھتے تھے اور مجھے صریح کاذب۔ * نوٹؔ : مسٹر عبد اللہ آتھم نے بہ ایام انعقاد شرائط مباحثہ اپنے ایک تحریری عہد سے جو ہمارے پاس موجود ہے ہمیں اطلاع دی تھی۔ کہ وہ کسی