بدمعاشوں کی طرح ٹھٹھا ہنسی کرتا پھرے تو سمجھا جائے گا کہ وہ شریف نہیں بلکہ اس کی فطرت میں خلل ہے سو اگر بجز اس تحقیق کے تکذیب کرے تو وہ کاذب ہے اور لعنۃاللّٰہ علی الکاذبین کا مصداق۔ اور اگر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے پاس جانے کے لئے اس کو کچھ مسافت طے کرنی پڑتی ہے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے خرچ سے اس کے لئے یکّہ یا ٹٹّویا ڈولی جو کچھ چاہے مہیا کر دیں گے اور اگر وہ ہندو ہے یا کیسوں والا سکھ یا کوئی اور غیر مذہب والا ہے تو اس کی غذا کے لئے بھی ہم نقد دے دیں گے۔ یہ نہایت صفائی کا فیصلہ ہے اور کسی حلال زادہ کا کام نہیں جو بغیر رعایت اس فیصلہ کے ہم کو جھوٹا اور شکست خوردہ قرار دے یا بازاروں میں ٹھٹھا یا ہنسی کرتا پھرے اور بغلیں بجاتا پھرے ہاں جو لوگ ناجائز طور کی عداوت رکھتے ہیں۔ وہ ناجائز تہمتوں کا طومار باندھ کر ناحق اسلام کے دشمن بن جاتے ہیں مگر یاد رکھیں کہ اسلام کا خدا سچا خدا ہے۔ جو نہ کسی عورت کے پیٹ سے نکلا اور نہ کبھی بھوکا اور پیاسا ہوا وہ ان سب تہمتوں سے پاک ہے جو اس کی نسبت کوئی خیال کرے کہ ایک مدت تک اس کی خدائی کا انتظام درست نہ تھا اور نجات دینے کی کوئی راہ اور سبیل اسے نہیں ملتی تھی۔ یہ تو مدت کے بعد گویا ساری عمر بسر کر کے سوجھی کہ مریم سے اپنا بیٹا پیدا کرے اور مریم کی پیدائش سے پہلے یہ کفارہ کی تدبیر اس کے خیال میں نہ گذری اور نہ کامل خدا کی نسبت ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ صرف نام ہی کا پرمیشر ہے ورنہ سب کچھ جیو اور پر کرتی وغیرہ آپ ہی آپ قدیم سے ہے۔ نہیں بلکہ وہ قادر مطلق اور کل کا خالق ہے۔ اور اگر کوئی سوال کرے کہ اس میں کیا بھید ہے کہ پیشگوئی کے دو پہلو میں سے موت کے پہلو کی