سرگروہ تھے۔ میعاد کے اندر عین جوانی میں اس دنیا سے کوچ کر گئے اور مسٹرعبداللہ آتھم صاحب اپنی مصیبت میں رہے غالباً
وہ ان کے جنازہ پر بھی حاضر نہیں ہوسکے۔ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے دل کو ان کی بے وقت موت کا ایسا صدمہ پہنچا۔ کہ بس مجروح کردیا۔ اور فریق مخالف کے گروہ میں سے جو بطور معاونوں کے
تھے ان میں سے ایک پادری ٹامس ہاول تھا۔ جس نے بار بار محرف کتابوں کو پڑھ کر اپنا حلق پھاڑا اور لوگوں کا مغز کھایا۔ وہ مباحثہ کے بعد ہی ایسا پکڑا گیا اور ایسی سخت بیماری میں مبتلا ہوا کہ مر
مر کے بچا اور ایک معاون عبد اللہ پادری تھا جو چپکے چپکے قرآن شریف کی آیتیں دکھاتااور عبرانی کے ٹوٹے پھوٹے حرف پڑھتا تھا۔ اس کو بھی میعاد کے اندر سخت بیماری نے موت تک پہنچایا۔ اور
معلوم نہیں کہ بچایا گذر گیا۔ باقی رہا پادری عماد الدین اس کے گلے میں ہزار *** کی ذلت کا لمبا رسہ پڑا جو نور الحق کے جواب سے عاجز ہونے سے اس کو اور اس کے تمام بھائیوں کو نصیب ہوا۔
اب فرمایئے اس تمام فریق میں سے ہاویہ سے کون بچا کسی ایک کا تو نشان دیں۔ ہمارے یہ ثبوت ہیں جو ہم نے لکھ دیئے۔ بالآخر ہم یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر اب بھی کوئی مولوی مخالف جو اپنی بدبختی
سے عیسائی مذہب کا مددگار ہو یا کوئی عیسائی یا ہندو یا آریہ یا کیسوں والا سکھ ہماری فتح نمایاں کا قائل نہ ہو تو اس کے لئے طریق یہ ہے کہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کوؔ قسم مقدم الذکر کے کھانے
پر آمادہ کرے اور ہزار روپیہ نقد ان کو دلا دے جس کے دینے میں ہم ان کے حلف کے بعد ایک منٹ کے توقف کا بھی وعدہ نہیں کرتے اور اگر ایسا نہ کرے اور محض اوباشوں اور بازاری