طرف خداتعالیٰ نے مسٹر عبد اللہ آتھم کے لئے رخ نہ کیا اور دوسرا پہلو لے لیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ موت کا پہلو مجروح اور تختہ مشق اعتراضات کا ہوگیا تھا۔ کوئی کہتا تھا کہ مرنا کیا نئی بات ہے۔ ایک ڈاکٹر صاحب پہلے موت کا فتویٰ دے چکے ہیں کہ چھ مہینہ تک فوت ہو جاوے گا اور کوئی کہتا تھا کہ بڈھا ہے کوئی کہتا تھا کمزور ہے موت کیا تعجب ہے۔ کوئی کہتا تھا کہ جادو سے مار دیں گے یہ شخص بڑا جادوگر ہے سو خدائے حکیم و علیم نے دیکھا کہ معترضوں نے اس پہلو کو بہت کمزور اور مشکوک کردیا ہے۔ اور خیالات پر سے اس کا اثر اٹھا دیا ہے اس لئے دوسرا پہلو اختیار کیا اور اس پہلو سے جادو کا گمان کرنے والے بھی شرمندہ ہوں گے کیونکہ دلوں کو حق کی طرف پھیرنا جادوگروں کا کام نہیں بلکہ خدا اور اس کے نبیوں اور رسولوں کا کام ہے سو اس وقت تک خداتعالیٰ نے مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کی موت کو ان وجوہات سے ٹال دیا اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے دل پر عظمت اسلام کا رعب ڈال کر پہلو ثانی سے اس کو حصہ دے دیا لیکن اب عیسائیوں کی راہیں بدل گئیں اور بھولا بسرا خداوند مسیح کہیں سے نکل آیا یہ ان زبانوں پر جاری ہوگیا کہ خداوند مسیح بڑا ہی قادر خدا ہے جس نے مسٹر عبد اللہ آتھم کو بچا لیا اس لئے ضرور ہوا کہ خدا تعالیٰ اس مصنوعی خدا کی حقیقت دنیا پر ظاہر کرے کہ کیا یہ عاجز انسان جس کا نام ربنا المسیح رکھا گیا کسی کو موت سے بچا سکتا ہے۔ سو اب موت کے پہلو کا وقت آگیا اب ہم دیکھیں گے کہ عیسائیوں کا خدا کہاں تک طاقت رکھتا ہے اور کہاں تک اس مصنوعی خدا پر ان لوگوں کا توکل ہے اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں اور جواب کے منتظر ہیں۔ والسلام علی من اتبع الھدٰی المشتھر ۹؍ستمبر ۱۸۹۴ ؁ء خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور