کو اس بات کی طرف تحریک نہ دی کہ وہ اس اثناء میں بدزبانی اور سخت گوئی کو کمال تک پہنچا کر موت کے اسباب اپنے لئے
جمع کرتے بلکہ ان کے دل میں عظمت اسلام کا خوف ڈال دیا تاوہ اس شرط سے فائدہ اٹھا لیں۔ جو رجوع کرنے والوں کے لئے الہامی الفاظ میں لکھے گئے تھے اور خداتعالیٰ کو منظور تھا کہ عیسائیوں
کو کچھ عرصہ تک جھوٹی خوشی پہنچاوے اور پھر وہ فیصلہ کرے جس سے درحقیقت اندھے آنکھیں پائیں گے اور بہروں کے کان کھلیں گے اور مردے زندے ہوں گے اور بخیل اور حاسد سمجھیں گے
کہ انہوں نے کیسی غلطی کی۔ امرت سر کے عیسائی اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ خداوند مسیح نے مسٹر عبد اللہ آتھم کو بچا لیا۔ سو اب اگر وہ اپنے تئیں سچے خیال کرتے ہیں تو ان پر واجب ہے
کہ مقابلہ سے ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر وہ مصنوعی خدا اُن کا درحقیقت بچانے والا ہی ہے تو ضرور اس آخری فیصلہ پر بچالے گا کیونکہ اگر موت وارد ہوگئی تو سب عیسائیوں کی رو سیاہی ہے
چاہیئے کہ اپنے اس مصنوعی خداوند پر توکل کر کے اپنی پیٹھ نہ دکھلاویں۔ لیکن یاد رکھیں کہ ہرگز ان کو فتح نہیں ہوگی جو شخص آپ فوت ہوگیا ہے وہ دوسرے کو فوت ہونے سے کب روک سکتا ہے۔
روکنے والا ایک ہے جو حیّ قیوم ہے جس کے ہم پر ستار ہیں۔ یہ تو ہم نے مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کا حال بیان کیا۔ جو فریق مخالف سے بحث کے لئے منتخب کئے گئے تھے۔ لیکن اس جگہ سوال یہ
ہے کہ اس فریق مخالف میں سے جو لوگ بطور معاون یا حامی یا سرگروہ تھے ان کا کیا حال ہوا انہوں نے بھی کچھ ہاویہ کا مزہ چکھا ہے یا نہیں تو جواب یہ ہے کہ ضرور چکھا اور میعاد کے اندر ہر
ایک نے کامل طور سے چکھا۔ چنانچہ پادری رائٹ صاحب جو بطور