کے نام ہوگا۔ تاریخ وصول سے ایک ہفتہ تک انہوں نے اس مقابلہ کے لئے درخواست نہ کی تو سمجھا جائے گا کہ فتح اسلام پر انہوں نے مہر لگا دی۔ اور ہمارے الہام کی تصدیق کر لی۔ یہ فیصلہ ہے جو خداتعالیٰ اپنے سچے بندوں کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے کرے گا۔ اور جھوٹ کے منصوبہ کو نابود کردے گا اور دروغ کے پتلے کو پاش پاش کر دے گا۔ اور اس اقرار کے لئے ہم مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کو یہ تکلیف نہیں دیتے ہیں کہ وہ امرتسر میں ہمارے مکان پر آویں۔ بلکہ ہم ان کے بلانے کے بعد معہ ہزار روپیہ کے ان کے مکان پر آویں گے اور ان کے بلانے کی تاریخ سے ہمیں اختیار ہوگا کہ تین ہفتہ تک کسی تاریخ میں روپیہ لے کر ان کے پاس معہ اپنی جماعت کے حاضر ہوجائیں اور ان پر واجب ہوگا کہ ہمارے بلانے کے لئے رجسٹری شدہ خط بھیجیں پھر ہم اطلاع پاکر تین ہفتہ کے اندر معہ ہزار روپیہ کے حاضر نہ ہوں تو بلاشبہ وعدہ خلاف کرنے والے اور کاذب ٹھہریں گے اور ہم خود ان کے مکان پر آئیں گے اور ان کو کسی قدم رنجہ کی تکلیف نہ دیں گے ہم ان کو اتنی بھی تکلیف نہیں دیں گے کہ اس اقرار کیلئے کھڑے ہو جائیں یا بیٹھ جائیں۔ بلکہ وہ بخوشی اپنے بستر پر ہی لیٹے رہیں۔ اور تین مرتبہ وہ اقرار کر دیں۔ جو لکھ دیا گیا ہے۔ اور ہم ناظرین کو مکرر یاد دلاتے ہیں۔ کہ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کی نسبت ہماری پیشگوئی کے دو پہلو تھے یعنی یا تو ان کی موت اور یا ان کا حق کی طرف رجوع کرنا اور رجوع کرنا دل کا فعل ہے جس کو خلقت نہیںؔ جانتی۔ اور خداتعالیٰ جانتا ہے اور خلقت کے جاننے کے لئے یہ فیصلہ ہے جو ہم نے کر دیا اور خداتعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نے مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب