اس دانا کسان کا فعل عبث نہیں ہوتا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ اس زمین کا اعلیٰ جوہر بجز اس درجہ کی کوفت کے نمودار نہیں
ہوسکتا۔ اسی طرح کسان اس زمین میں بہت عمدہ قسم کے دانے تخم ریزی کے وقت بکھیر دیتا ہے اور وہ دانے خاک میں مل کر اپنی شکل اور حالت میں قریب قریب مٹی کے ہوجاتے ہیں اور ان کا وہ رنگ
و روپ سب جاتا رہتا ہے۔ لیکن وہ دانا کسان اس لئے ان کو مٹی میں نہیں پھینکتا کہ وہ اس کی نظر میں ذلیل ہیں۔ نہیں بلکہ دانے اس کی نظر میں نہایت ہی بیش قیمت ہیں۔ بلکہ وہ اسلئے ان کو مٹی میں
پھینکتا ہے کہ تا ایک ایک دانہ ہزار ہزار دانہ ہوکر نکلے اور وہ بڑھیں اور پھولیں اور ان میں برکت پیدا ہو اور خدا کے بندوں کو نفع پہنچے۔ پس اسی طرح وہ حقیقی کسان کبھی اپنے خاص بندوں کو مٹی
میں پھینک دیتا ہے اور لوگ ان کے اوپر چلتے ہیں اور پیروں کے نیچے کچلتے ہیں اور ہریک طرح سے ان کی ذلت ظاہر ہوتی ہے۔ تب تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانے سبزہ کی شکل پر ہوکر نکلتے ہیں اور
ایک عجیب رنگ اور آب کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں جو ایک دیکھنے والا تعجب کرتا ہے۔ یہی قدیم سے برگزیدہ لوگوں کے ساتھ سنت اللہ ہے کہ وہ ورطۂ عظیمہ میں ڈالے جاتے ہیں۔ لیکن غرق کرنے کے
لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ تا ان موتیوں کے وارث ہوں کہ جو دریائے وحدت کے نیچے ہیں۔ اور وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں۔ لیکن اس لئے نہیں کہ جلائے جائیں بلکہ اس لئے کہ تاخداتعالیٰ کی قدرتیں
ظاہر ہوں۔ اور ان سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور *** کی جاتی ہے۔ اور وہ ہر طرح سے ستائے جاتے اور دکھ دیئے جاتے اور طرح طرح کی بولیاں ان کی نسبت بولی جاتی ہیں۔ اور بدظنیاں بڑھ جاتی ہیں۔
یہاں تک کہ بہتوں کے خیال و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ سچے ہیں بلکہ جو شخص ان کو دکھ دیتا اور لعنتیں بھیجتا ہے وہ اپنے دل میں خیال کرتا ہے کہ بہت ہی ثواب کا کام کر رہا ہے۔ پس ایک مدت
تک ایسا ہی ہوتا رہتا ہے۔ اور اگر اس برگزیدہ پر بشریت کے تقاضا سے کچھ قبض طاری ہو تو خداؔ تعالیٰ اس کو ان الفاظ سے تسلی دیتا ہے کہ صبر کر جیسا کہ پہلوں نے صبر کیا اور فرماتا ہے کہ
میں تیرے ساتھ ہوں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ پس وہ صبر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ امر مقدر اپنے مدت مقررہ تک پہنچ جاتا ہے۔ تب غیرت الٰہی اس غریب کے لئے جوش مارتی ہے اور ایک ہی تجلی میں
اعداء کو پاش پاش کر دیتی ہے سو اوّل نوبت دشمنوں کی ہوتی ہے اور اخیر میں اس کی نوبت آتی ہے۔ اسی طرح خداوند کریم نے بارہا مجھے سمجھایا کہ ہنسی ہوگی اور ٹھٹھا ہوگا اور لعنتیں کریں گے
اور بہت ستائیں گے لیکن آخر نصرت الٰہی تیرے شامل ہوگی