مطابق کچھ وجوہ رکھتے ہوں گے جن کی بنا پر اس کو کافر اور دجال قرار دیں گے۔ فاتقوا اللّٰہ یا اولی الابصار والسلام علٰی من
خشی الرحمٰن واتقٰی واتّبع الحق واھتدٰی۔
ہمارا انجام کیا ہوگا
بجز خدا کے انجام کون بتلا سکتا ہے اور بجز اس غیب دان کے آخری دنوں کی کس کو خبر ہے۔ دشمن کہتا ہے کہ بہتر ہو کہ یہ
شخص ذلت کے ساتھ ہلاک ہو جائے اور حاسد کی تمنا ہے کہ اس پر کوئی ایسا عذاب پڑے کہ اس کا کچھ بھی باقی نہ رہے۔ لیکن یہ سب لوگ اندھے ہیں اور عنقریب ہے کہ ان کے بدخیالات اور بد
ارادے انہیں پر پڑیں۔ اس میں شک نہیں کہ مفتری بہت جلد تباہ ہو جاتا ہے۔ اور جو شخص کہے کہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہوں حالانکہ نہ وہ خداتعالیٰ
کی طرف سے ہے نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے وہ بہت بُری موت سے مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے لیکن جو صادق اور اس کی طرف سے ہیں وہ مر کر
بھی زندہ ہو جایا کرتے ہیں کیونکہ خداتعالیٰ کے فضل کا ہاتھ ان پر ہوتا ہے اور سچائی کی روح ان کے اندر ہوتی ہے۔ اگر وہ آزمائشوں سے کچلے جائیں اور پیسے جائیں اور خاک کے ساتھ ملائے جائیں
اور چاروں طرف سے ان پر لعن و طعن کی بارشیں ہوں اور ان کے تباہ کرنے کے لئے سارا زمانہ منصوبے کرے تب بھی وہؔ ہلاک نہیں ہوتے۔ کیوں نہیں ہوتے؟ اس سچے پیوند کی برکت سے جو ان
کو محبوب حقیقی کے ساتھ ہوتا ہے۔ خدا ان پر سب سے زیادہ مصیبتیں نازل کرتا ہے مگر اس لئے نہیں کہ تباہ ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ تا زیادہ سے زیادہ پھل اور پھول میں ترقی کریں۔ ہریک جو ہر قابل
کے لئے یہی قانون قدرت ہے کہ اول صدمات کا تختۂ مشق ہوتا ہے۔ مثلاً اس زمین کو دیکھو جب کسان کئی مہینہ تک اپنی قلبہ رانی کا تختہ مشق رکھتا ہے اور ہل چلانے سے اس کا جگر پھاڑتا رہتا ہے
یہاں تک کہ وہ زمین جو پتھر کی طرح سخت اور درشت معلوم ہوتی تھی سرمہ کی طرح پس جاتی ہے اور ہوا اس کو ادھر ادھر اڑاتی ہے اور پریشان کرتی رہتی ہے اور وہ بہت ہی خستہ شکستہ اور
کمزور معلوم ہوتی ہے اور ایک انجان سمجھتا ہے کہ کسان نے چنگی بھلی زمین کو خراب کر دیا اور بیٹھنے اور لیٹنے کے لائق نہ رہی لیکن