اور خدا دشمنوں کو مغلوب اور شرمندہ کرے گا۔ چنانچہ براہین احمدیہ میں بھی بہت سا حصہ الہامات کا انہی پیشگوئیوں کو بتلا رہا ہے اور مکاشفات بھی یہی بتلا رہے ہیں۔ چنانچہ ایک کشف میں میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے سامنے آیا اور وہ کہتا ہے کہ لوگ پھرتے جاتے ہیں۔ تب میں نے اس کو کہا کہ تم کہاں سے آئے تو اس نے عربی زبان میں جواب دیا اور کہا کہ جئت من حضرۃ الوتر۔ یعنی میں اس کی طرف سے آیا ہوں جو اکیلا ہے تب میں اس کو ایک طرف خلوت میں لے گیا۔ اور میں نے کہا کہ لوگ پھرتے جاتے ہیں مگر کیا تم بھی پھر گئے تو اس نے کہا کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ تب میں اس حالت سے منتقل ہوگیا۔ لیکن یہ سب امور درمیانی ہیں اور جو خاتمہ امر پر مقدر ہوچکا ہے وہ یہی ہے کہ بار بار کے الہامات اور مکاشفات سے جو ہزارہا تک پہنچ گئے ہیں اور آفتاب کی طرح روشن ہیں خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ میں آخر کار تجھے فتح دوں گا اور ہر یک الزام سے تیری بریت ظاہر کر دوں گا اور تجھے غلبہ ہوگا اور تیری جماعت قیامت تک اپنے مخالفوں پر غالب رہے گی اور فرمایا کہ میں زور آور حملوں سے تیری سچائی ظاہر کروں گا اور یاد رہے کہ یہ الہامات اس واسطے نہیں لکھے گئے کہ ابھی کوئی ان کو قبول کر لے بلکہ اس واسطے کہ ہریک چیز کے لئے ایک موسم اور وقت ہے۔ پس جب ان الہامات کے ظہور کا وقت آئے گا۔ تو اس وقت یہ تحریر مستعد دلوں کے لئے زیادہ تر ایمان اور تسلی اور یقین کا موجب ہوگی۔ والسلام علٰیمن اتبع الہدٰی