کو گناہ کرنے کی ترغیب دی ہو۔ بلکہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کا فتویٰ وہی لوگ دیتے ہیں جو درحقیقت ایمان اور نیک چلنی سے محروم رہ کر اپنے اغراض نفسانی کی وجہ سے دوسروں کو بھی بدکاریوں کے جنم میں ڈالنا چاہتے تھے۔ اور یہ لوگ درحقیقت ان نجومیوں کے مشابہ ہیں جو ایک شارعؔ عام میں بیٹھ کر راہ چلتے لوگوں کو پھسلاتے اور فریب دیتے ہیں اور ایک ایک پیسہ لے کر بے چارے حمقاء کو بڑے تسلی بخش الفاظ میں خوشخبری دیتے ہیں کہ عنقریب ان کی ایسی ایسی نیک قسمت کھلنے والی ہے اور ایک سچے محقق کی صورت بنا کر ان کے ہاتھ کے نقوش اور چہرہ کے خط و خال کو بہت توجہ سے دیکھتے بھالتے ہیں گویا وہ بعض نشانوں کا پتہ لگا رہے ہیں اور پھر ایک نمائشی کتاب کے ورقوں کو جو صرف اسی فریب دہی کے لئے آگے دھری ہوتی ہے الٹ پلٹ کر یقین دلاتے ہیں کہ درحقیقت پوچھنے والے کا ایک بڑا ہی ستارہ قسمت چمکنے والا ہے غالباً کسی ملک کا بادشاہ ہو جائے گا ورنہ وزارت تو کہیں نہیں گئی۔ اور یا یہ لوگ جو کسی کو باوجود اس کی دائمی ناپاکیوں کے خدا کا مورد فضل بنانا چاہتے ہیں ان کیمیا گروں کی مانند ہیں جو ایک سادہ لوح مگر دولت مند کو دیکھ کر طرح طرح کی لاف زنیوں سے شکار کرنا چاہتے ہیں اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے پہلے آنے والے کیمیا گروں کی مذمت کرنا شروع کردیتے ہیں کہ جھوٹے بدذات ناحق اچکّوں کے طور پر لوگوں کا مال فریب سے کھسکا کر لے جاتے ہیں اور پھر آخر بات کو کشاں کشاں اس حد تک پہنچاتے ہیں کہ صاحبو میں نے اپنے پچاس یا ساٹھ برس کی عمر میں جس کو کیمیا گری کا مدعی دیکھا جھوٹا ہی پایا۔ ہاں میرے گورو بیکنٹھ باشی سچے رسائنی تھے کروڑہا روپیہ کا دان کر گئے مجھے خوش نصیبی