سے باراں برس تک ان کی خدمت کا شرف حاصل ہوا اور پھل پایا۔ پھل پانے کا نام سن کر ایک جاہل بول اٹھتا ہے کہ باباجی تب تو
آپ نے ضرور رسائن کا نسخہ گورو جی سے سیکھ لیا ہوگا یہ بات سن کر بابا جی کچھ ناراض ہوکر تیوری چڑھا کر بولتے ہیں کہ میاں اس بات کا نام نہ لو ہزاروں لوگ جمع ہو جائیں گے ہم تو لوگوں
سے چھپ کر بھاگتے پھرتے ہیں۔ غرض ان چند فقروں سے ہی جاہل دام میں آجاتے ہیں پھر تو شکار دام افتادہ کو ذبح کرنے کیلئے کوئی بھی دقّت باقی نہیں رہتی خلوت میں راز کے طور پر سمجھاتے
ہیں کہ درحقیقت تمہاری ہی خوش قسمتی ہمیں ہزاروں کوسوں سے کھینچ لائی ہے اور اس بات سے ہمیں خود بھی حیرانی ہے کہ کیونکر یہ سخت دل تمہارے لئے نرم ہوگیا اب جلدی کرو اور گھر سے
یا مانگ کر دس ہزار کا طلائی زیور لے آؤ ایک ہی رات میں دہ چند ہو جائے گا مگر خبر دار کسی کو میریؔ اطلاع نہ دینا کسی اور بہانہ سے مانگ لینا قصہ کو تاہ یہ کہ آخر زیور لے کر اپنی راہ لیتے
ہیں اور وہ دیوانے د۱۰ہ چند کی خواہش کرنے والے اپنی جان کو روتے رہ جاتے ہیں یہ اس طمع کی شامت ہوتی ہے جو قانون قدرت سے غفلت کرکے انتہاء تک پہنچائی جاتی ہے مگر میں نے سنا ہے
کہ ایسے ٹھگوں کو یہ ضرورہی کہنا پڑتا ہے کہ جس قدر ہم سے پہلے آئے یا بعد میں آویں گے یقیناً سمجھو کہ وہ سب فریبی اور بٹمار اور ناپاک اور جھوٹے اور اس نسخہ سے بے خبر ہیں۔ ایسا ہی
عیسائیوں کی پٹری بھی جم نہیں سکتی جب تک کہ حضرت آدم سے لے کر اخیر تک تمام مقدس نبیوں کو پاپی اور بدکار نہ بنالیں * ۔
*نوٹ: عیسائیوں کی عقل اور سمجھ پر افسوس ہے کہ انہوں
نے اپنے یسوع کو خدا بنا کر اس کی ذات کو کچھ فائدہ نہیں