جان دی ہو یا شیاطین کو گناہ سے باز رکھا ہو اگر ایسا کوئی انتظام نہیں ہوا تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا خدا اس
بات پر ہمیشہ راضی رہا ہے جو شیاطین کو جو عیسائیوں کے اقرار سے بنی آدم سے بھی زیادہ ہیں ہمیشہ کی جہنم میں جلا وے پھر جبکہ ایسے کسی بیٹے کا نشان نہیں دیا گیا تو اس صورت میں تو
عیسائیوں کو اقرار کرنا پڑا کہ ان کے خدا نے شیاطین کو جہنم کے لئے ہی پیدا کیا ہے۔ غرض بے چارے عیسائی جب سے ابن مریم کو خدا بنا بیٹھے ہیں بڑی بڑی مصیبتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ کوئی
ایسا دن نہیں ہوگا کہ خود انہیں کی روح ان کے اس اعتقاد کو نفرت سے نہیں دیکھتی ہوگی۔ پھر ایک اور مصیبت ان کو یہ پیش آئی ہے کہ اس مصلوب کی علّت غائی عند التحقیق کچھ ثابت نہیں ہوتی
اور اس کے صلیب پر کھینچے جانے کا کوئی ثمرہ بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔ کیونکہ صورتیں صرف دو ہیں۔
(۱) اوّل یہ کہ اس مرحوم بیٹے کے مصلوب ہونے کی علّتِ غائی یہ قرار دیں کہ تا اپنے
ماننے والوں کو گناہ کرنے میں دلیر کرے اور اپنے کفارہ کے سہارے سے خوب زور شور سے فسق و فجور اور ہر یک قسم کی بدکاری پھیلاوے۔ سو یہ صورت تو ببداہت نامعقول اور شیطانی طریق ہے
اور میرے خیال میں دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا کہ اس فاسقانہ طریق کو پسند کرے اور ایسے کسی مذہب کے بانی کو نیک قرار دے جس نے اس طرح پر عام آدمیوں
ہی ظہور میں آیا جن کے
پیشوا نے خدا کہلا کر پھر شیطان کی پیروی کی یعنی اس کے پیچھے ہولیا ان کا شیطان کو سجدہ کرنا کیا بعید تھا۔ غرض عیسائیوں کی دولتیں درحقیقت اسی سجدہ کی وجہ سے ہیں جو انہوں نے شیطان
کو کیا اور ظاہر ہے کہ شیطانی وعدہ کے موافق سجدہ کے بعد عیسائیوں کو دنیا کی دولتیں دی گئیں۔ منہ