طاقت اور قدرت کو وزن کیا جائے تب بھی اس کے مقابل پر بھی یہ ہیچ محض ہے کیونکہ آریوں کا فرضی پرمیشر اگرچہ پیدا کرنے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا لیکن کہتے ہیں کہ پیدا شدہ چیزوں کو کسی قدر جوڑ سکتا ہے مگر عیسائیوں کے یسوع میں تو اتنی بھی طاقت ثابت نہ ہوئی جس وقت یہودیوں نے صلیب پر کھینچ کر کہا تھا کہ اگر تو اب اپنے آپ کو بچائے تو ہم تیرے پر ایمان لاویں گے تو وہ ان کے سامنے اپنے تئیں بچا نہ سکا ورنہ اپنے تئیں بچانا کیا کچھ بڑا کام تھا صرف اپنی روح کو اپنے جسم کے ساتھ جوڑنا تھا۔ سو اس کمزور کو جوڑنے کی بھی طاقت نہ ہوئی ۔ پیچھے سے پردہ داروں نےؔ باتیں بنا لیں کہ وہ قبر میں زندہ ہوگیا تھا مگر افسوس کہ انہوں نے نہ سوچا کہ یہودیوں کا تو یہ سوال تھا کہ ہمارے روبرو ہمیں زندہ ہوکر دکھلاوے پھر جبکہ ان کے روبرو زندہ نہ ہوسکا اور نہ قبر میں زندہ ہوکر ان سے آکر ملاقات کی تو یہودیوں کے نزدیک بلکہ ہریک محقق کے نزدیک اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حقیقت میں زندہ ہوگیا تھا اور جب تک ثبوت نہ ہو تب تک اگر فرض بھی کر لیں کہ قبر میں لاش گم ہوگئی تو اس سے زندہ ہونا ثابت نہیں ہوسکتا بلکہ عند العقل یقینی طور پر یہی ثابت ہوگا کہ درپردہ کوئی کرامات دکھلانے والا چُرا کر لے گیا ہوگا۔ دنیا میں بہتیرے ایسے گذرے ہیں کہ جن کی قوم یا معتقدوں کا یہی اعتقاد تھا کہ ان کی نعش گم ہو کر وہ معہ جسم بہشت میں پہنچ گئی ہے تو کیا عیسائی قبول کرلیں گے کہ فی الحقیقت ایسا ہی ہوا