جب ہم سوچتے ہیں کہ کیونکر وہ گرفتار ہونے کے وقت ساری رات دعا کرکے پھر بھی اپنے مطلب سے نامراد رہا اور ذلت کے ساتھ پکڑا گیا۔ اورؔ بقول عیسائیوں کے سولی پر کھینچا گیا اور ایلی ایلیکرتا مر گیا تو ہمیں یک دفعہ بدن پر لرزہ پڑتا ہے کہ کیا ایسے انسان کو جس کی دعا بھی جناب الٰہی میں قبول نہ ہوسکی اور نہایت ناکامی اور نامرادی سے ماریں کھاتا کھاتا مر گیاقادر خدا کہہ سکتے ہیں۔ ذرا اس وقت کے نظارہ کو آنکھوں کے سامنے لاؤ جب کہ یسوع مسیح حوالات میں ہوکر پلاطوس کی عدالت سے ہیرودوس کی طرف بھیجا گیا کیا یہ خدائی کی شان ہے کہ حوالات میں ہوکر ہتکڑی ہاتھ میں زنجیر پیروں میں چند سپاہیوں کی حراست میں چالان ہوکر جھڑکیاں کھاتا ہوا گلیل کی طرف روانہ ہوا اور اس حالت پُر ملالت میں ایک حوالات سے دوسری حوالات میں پہنچا۔ پلاطوس نے کرامت دیکھنے پر چھوڑنا چاہا اس وقت کوئی کرامت دکھلا نہ سکا۔ ناچار پھر حراست میں واپس کرکے یہودیوں کے حوالہ کیا گیا اور انہوں نے ایک دم میں اس کی جان کا قصہ تمام کر دیا۔ اب ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا اصلی اور حقیقی خدا کی یہی علامتیں ہوا کرتی ہیں۔ کیا کوئی پاک کانشنس اس بات کو قبول کرسکتا ہے کہ وہ جو زمین و آسمان کا خالق اور بے انتہا قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے وہ اخیر پر ایسا بدنصیب اور کمزور اور ذلیل حالت میں ہو جائے کہ شریر انسان اس کو اپنے ہاتھوں میں مل ڈالیں۔ اگر کوئی ایسے خدا کو پوجے اور اس پر بھروسہ کرے تو اسے اختیار ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر آریوں کے پرمیشر کے مقابل پر بھی عیسائیوں کے خدا کو کھڑا کر کے اس کی