ہوگا مثلاً دور نہ جاؤ بابا نانک صاحب کے واقعات پر ہی نظر ڈالو کہ ۱۷ لاکھ سکھ صاحبوں کا اسی پر اتفاق ہے کہ درحقیقت وہ
مرنے کے بعد معہ اپنے جسم کے بہشت میں پہنچ گئے اور نہ صرف اتفاق بلکہ ان کی معتبر کتابوں میں جو اسی زمانہ میں تالیف ہوئیں یہی لکھا ہوا ہے۔ اب کیا عیسائی صاحبان قبول کرسکتے ہیں کہ
حقیقت میں بابا نانک صاحب معہ جسم بہشت میں ہی چلے گئے ہیں۔ افسوس کہ عیسائیوں کو دوسروں کے لئے تو فلسفہ یاد آجاتا ہے مگر اپنے گھر کی نامعقول باتوں سے فلسفہ کو چھونے بھی نہیں
دیتے۔ اگر عیسائی صاحبان کچھ انصاف سے کام لینا چاہیں تو جلد سمجھ سکتے ہیں کہ سکھ صاحبوں کے دلائل بابا نانک صاحب کی نعش گم ہونے اور معہ جسم بہشت میں جانے کے بارے میں عیسائیوں
کے مزخرفات کی نسبت بہت ہی قوی اور قابل توجہ ہیں اور بلاشبہ انجیل کے وجوہ سے زبردست ہیں کیونکہ اول تو وہ واقعات اسی وقت بالا والی جنم ساکھی میں لکھے گئے مگر انجیلیں یسوع کے
زمانہ سے بہت برس بعد لکھی گئیں پھر ایک اور ترجیح بابا نانک صاحب کے واقعہ کو یہ ہے کہ یسوع کی طرف جو یہ کرامت منسوب کی گئی ہے تو یہ درحقیقت اس ندامت کی پردہ پوشی کی غرض
سے معلوم ہوتی ہے جو یہودیوں کے سامنے حواریوں کو اٹھانی پڑی کیونکہ جب یہودیوں نے یسوع کو صلیب پر کھینچ کر پھر اس سے یہ معجزہ چاہا کہ اگر وہ اب زندہ ہو ؔ کر صلیب پر سے اتر
آئے تو ہم اس پر ایمان لائیں گے۔ تو اس وقت یسوع صلیب پر سے اتر نہ سکا۔ پس اس وجہ سے یسوع کے شاگردوں کو بہت ہی ندامت ہوئی اور وہ یہودیوں کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔
لہٰذا ضرور تھا کہ وہ ندامت کے