وہ کسی پہلی جون کا پھل ہے مگر افسوس کہ باوجود یکہ آریوں کو وید کے اصولوں پر بہت ہی ناز ہے مگر پھر بھی یہ وید کی
باطل تعلیم ان کی انسانی کانشنس کو مغلوب نہیں کرسکی اور مجھے ان ملاقاتوں کی وجہ سے جو اکثر اس فرقہ کے بعض لوگوں سے ہوتی ہیں یہ بات بارہا تجربہ میں آچکی ہے کہ جس طرح نیوگ کے
ذکر کے وقت ایک ندامت آریوں کو دامن گیر ہوجاتی ہے اسی طرح وہ نہایت ہی ندامت زدہ ہوتے ہیں جبکہ ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پرمیشر کی قدرتی اور اخلاقی طاقتیں کیوں ایسی محدود ہوگئیں
جن کی شامت سے اس کی خدائی بھی عند العقل ثابت نہیں ہوسکتی اور جس کی وجہ سے بدنصیب آریہ دائمی نجات پانے سے محروم رہے۔ غرض ہندوؤں کے پرمیشر کی حقیقت اور ماہیت یہی ہے کہ
وہ اخلاقی اور الوہیت کی طاقتوں میں نہایت کمزور اور قابل رحم ہے اور شاید یہی سبب ہے کہ ویدوں میں پرمیشر کی پرستش چھوڑ کر اگنی اور وایو اور چاند اور سورج اور پانی کی پرستش پر زور
ڈالا گیا ہے اور ہر یک عطا اور بخشش کا سوال ان سے کیا گیا ہے کیونکہ جب کہ پرمیشر آریوں کو کسی منزل تک نہیں پہنچا سکتا بلکہ خودپوری قدرتوں سے محروم رہ کرنامرادی کی حالت میں زندگی
بسر کرتا ہے تو پھر دوسرے کا اس پر بھروسہ کرنا صریح غلطی ہے۔ ہندوؤں کے پرمیشر کی کامل تصویر آنکھوں کے سامنے لانے کے لئے اسی قدر کافی ہے جو ہم لکھ چکے ۔
اب دوسرا مذہب
یعنی عیسائی باقی ہے جس کے حامی نہایت زورو شور سے اپنے خدا کو جس کا نام انہوں نے یسوع مسیح رکھا ہوا ہے بڑے مبالغہ سے سچا خدا سمجھتے ہیں اور عیسائیوں کے خدا کا حلیہ یہ ہے کہ
وہ ایک اسرائیلی آدمی مریم بنت یعقوب کا بیٹا ہے جو ۳۲ برس کی عمر پاکر اس دارالفنا سے گذر گیا