قوتوں اور اپنے باہم جوڑ کے لئے دوسرے کے محتاج نہیں تو پھر اسی منہ سے یہ بھی کہیں کہ بعض چیزوں کے جوڑنے کے لئے ضرور کسی دوسرے کی حاجت ہے۔ پس یہ تو ایک دعویٰ ہوگا جس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔ غرض اس عقیدہ کی رو سے پرمیشر کا وجود ہی ثابت کرنا مشکل ہوگا سو اس انسان سے زیادہ کوئی بدقسمت نہیں جو ایسے پرمیشر پر بھروسہ رکھتا ہے جس کو اپنا وجود ثابت کرنے کے لئے بھی بباعث کمی قدرت کے کوئی عمدہ اسباب میسر نہیں آسکے۔ یہ تو ہندوؤں کے پرمیشر میں خدائی کی طاقتیں ہیں اور اخلاقی طاقتوں کا یہ حال ہے کہ وہ انسانوں کی طاقتوں سے بھی کچھ گری ہوئی معلوم ہوتی ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک نیک دل انسان بارہا ایسے قصور واروں کے قصور بخش دیتا ہے جو عجز اور نیاز کے ساتھ اس سے معافی چاہتے ہیں اور بارہا اپنے کرم نفس کی خاصیت سے ایسے لوگوں پر احسان کرتا ہے جن کا کچھ بھی حق نہیں ہوتا لیکن آریہ لوگ اپنے پرمیشر کی نسبت یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں قسموں کے خلقوں سے بھی بے نصیب ہے اور ان کے نزدیک ہریک گناہ کروڑہا جونوں کا موجب ہے اور جب تک کوئی گنہگار بے انتہا جونوں میں پڑ کر پوری سزا نہ پا لے تب تک کوئی صورت مَخلصی نہیں اور ان کے عقیدہ کی رو سے یہ امید بالکل بے سود ہے کہ انسان کی توبہ اور پشیمانی اور استغفار اس کے دوسرے جنم میں پڑنے سے روک دے گی یا حق کی طرف رجوع کرنا گذشہ ناحق کے اقوال و اعمال کی سزا سے اسے بچاؔ لے گا بلکہ بے شمار جونوں کا بھگتنا ضروری ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا اور کرم اور جود کے طور پر کچھ بخشش کرنا تو پرمیشر کی عادت ہی نہیں۔ جو کچھ انسان یا حیوان کوئی عمدہ حالت رکھتا ہے یا کوئی نعمت پاتا ہے