اور اس کے غیر میں مابہ الامتیاز بجز زیادہ ہوشیار اور ذہین ہونے کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ آریوں کا
پرمیشر اُن بے انتہا قدرتوں سے ناکام ہے جو الوہیت کے کمال کے متعلق ہیں اور یہ اس فرضی پرمیشر کی بدقسمتی ہے کہ اس کو وہ کمال تام میسر نہ ہوسکا جو اُلوہیت کا پورا جلال چمکنے کے لئے
ضروری ہے۔ اور دوسری بدنصیبی یہ ہے کہ بجز چند ورق وید کے قانون قدرت کی رو سے اس کے شناخت کرنے کی کوئی بھی راہ نہیں کیونکہ اگر یہی بات صحیح ہے کہ ارواح اور ذرات اجسام معہ
اپنی تمام قوتوں اور کششوں اور خاصیتوں اور عقلوں اور ادراکوں اور شعوروں کے خود بخود ہیں تو پھر ایک عقل سلیم ان چیزوں کے جوڑنے کے لئے کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں سمجھتی
وجہ یہ کہ اس صورت میں اس سوال کا جواب دینا امکان سے خارج ہے کہ جو چیزیں اپنے وجود کی قدیم سے آپ ہی خدا ہیں اور اپنے اندر وہ تمام قوتیں بھی رکھتی ہیں جو ان کے باہم جوڑنے کے لئے
ضروری ہیں تو پھر جس حالت میں ان کو اپنے وجود کے لئے پرمیشر کی حاجت نہیں ہوئی اور اپنی قوتوؔ ں اور خاصیتوں میں کسی بنانے والے کی محتاج نہیں ٹھہریں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان کو
باہم تعلق کے لئے کسی دوسرے جوڑنے والے کی حاجت پڑ گئی حالانکہ روحوں کے ساتھ ان کے قویٰ کا جوڑنا اور ذرات اجسام کے ساتھ ان کی قوتوں کا جوڑنا یہ بھی ایک جوڑنے کی قسم ہے پس اس
سے تو یہ ثابت ہی ہوگیا کہ ان قدیم چیزوں کو جیسا کہ اپنے وجود کے لئے کسی خالق کی ضرورت نہیں اور اپنی قوتوں کے لئے کسی موجد کی حاجت نہیں ایسا ہی باہم جوڑ پیدا ہونے کے لئے کسی
صانع کی حاجت نہیں اور یہ نہایت بے وقوفی ہوگی کہ جب اول خود اپنی ہی زبان سے ان چیزوں کی نسبت مان لیں کہ وہ اپنے وجود اور اپنی