جاتی ہے اور کس میں یہ خاصیت ہے کہ فقط اس کے طریق خدا شناسی پر ہی نظر ڈالنا دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے مثلاً وہ تین مذہب جن کا میں ابھی ذکر کر چکا ہوں۔ یہ ہیں۔ آریہ۱۔ عیسائی۲۔ اسلام۳۔ اگر ہم ان تینوں کی اصل تصویر دکھلانا چاہیں تو بتفصیل ذیل ہے۔ آریہ مذہب کا ایک ایسا خدا ہے جس کی خدائی اپنی ذاتی قوت اور قدرت پر چلنا غیر ممکن ہے اور اس کی تمام امیدیں ایسے وجودوں پر لگی ہوئی ہیں جو اس کے ہاتھ سے پیدا نہیں ہوئے۔ حقیقی خدا کی قدرتوں کا انتہا معلوم کرنا انسان کا کام نہیں مگر آریوں کے پرمیشر کی قدرت انگلیوںؔ پر گن سکتے ہیں۔ وہ ایک ایسا کم سرمایہ پرمیشر ہے کہ اس کی تمام قدرتوں کی حد معلوم ہوچکی ہے اور اگر اس کی قدرتوں کی بہت ہی تعریف کی جائے تو اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنے جیسی قدیم چیزوں کو معماروں کی طرح جوڑنا جانتا ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ اپنے گھر سے کون سی چیز ڈالتا ہے تو نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نہیں۔ غرض اس کی طاقت کا انتہائی مرتبہ صرف اس حد تک ہے کہ وہ موجودہ روحوں اور اجسام صغار کو جو قدیم اور اس کے وجود کی طرح انادی اور واجب الوجود ہیں جن کی پیدائش پر اس کے وجود کا کچھ بھی اثر نہیں باہم پیوند کر دیتا ہے لیکن اس بات پر دلیل قائم ہونا مشکل ہے کہ کیوں ان قدیم چیزوں کو ایسے پرمیشر کی حاجت ہے جبکہ کل چیزیں خود بخود ہیں ان کے تمام قویٰ بھی خود بخود ہیں اور ان میں باہم ملنے کی استعداد بھی خود بخود ہے اور ان میں قوت جذب اور کشش بھی قدیم سے ہے اور ان کے تمام خواص جو ترکیب کے بعد بھی ظاہر ہوتے ہیں خود بخود ہیں تو پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ کس دلیل سے اس ناقص اور ناطاقت پرمیشر کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اور اس میں