کی طرف توجہ دلاوے۔ ہماری دعا جیسا کہ اس گورنمنٹ کی دنیوی بھلائی کے لئے ہے ایسا ہی آخرت کے لئے بھی ہے پس کیا
تعجب ہے کہ دعا کا اثر ہم دیکھ لیں۔
اسؔ زمانہ میں جبکہ حق اور باطل کے معلوم کرنے کے لئے بہت سے وسائل پیدا ہوگئے ہیں ہمارے ملک میں تین بڑے مذہب بالمقابل کھڑے ہوکر ایک دوسرے
سے ٹکرا رہے ہیں ان مذاہب ثلاثہ میں سے ہر یک صاحب مذہب کو دعویٰ ہے کہ میرا ہی مذہب حق اور درست ہے اور تعجب کہ کسی کی زبان بھی اس بات کے انکار کی طرف مائل نہیں ہوتی کہ اس کا
مذہب سچائی کے اصولوں پر مبنی نہیں لیکن میں اس امر کو باور نہیں کرسکتا کہ جیسا کہ ہمارے مخالفوں کی زبانوں کا دعویٰ ہے۔ ایسا ہی ایک سیکنڈ کے لئے ان کے دل بھی ان کی زبانوں سے اتفاق
کرسکتے ہیں۔ سچے مذہب کی یہ ایک بڑی نشانی ہے کہ قبل اس کے جو ہم اس کی سچائی کے دلائل بیان کریں خود وہ اپنی ذات میں ہی ایسا روشن اور درخشان ہوتا ہے کہ اگر دوسرے مذاہب اس کے
مقابل پر رکھے جائیں تو وہ سب تاریکی میں پڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور اس دلیل کو اس وقت ایک دانشمند انسان صفائی سے سمجھ سکتا ہے جبکہ ہریک مذہب کو اس کے دلائل مخترعہ سے علیحدہ
کرکے صرف اس کے اصل الاصول پر نظر کرے یعنی ان مذاہب کے طریق خدا شناسی کو فقط ایک دوسرے کے مقابل پر رکھ کر جانچے اور کسی مذہب کے عقیدہ خدا شناسی پر بیرونی دلائل کا حاشیہ
نہ چڑھاوے بلکہ مجرد عن الدلائل کرکے اور ایک مذہب کو دوسرے مذہب کے مقابل پر رکھ کر پرکھے اور سوچے کہ کس مذہب میں ذاتی سچائی کی چمک پائی