خدا تعالیٰ نے یہی قائم کی ہے۔ پھر دوسرا ذریعہ جو مذاہب کے شناخت کرنے کا ہمارے ملک میں پیدا ہوگیا چھاپے خانوں کی کثرت ہے کیونکہ ایسی کتابیں جو گویا زمین میں دفن تھیں ان چھاپہ خانوں کے ذریعہ سے گویا پھر زندہ ہو گئیں یہاں تک کہ ہندوؤں کا وید بھی نئے اوراق کا لباس پہن کر نکل آیا گویا نیا جنم لیا اور حمقاء اور عوام کی بنائی ہوئی کہانیوں کی پردہ دری ہوگئی۔ تیسرا ذریعہ راہوں کا کھلنا اور ڈاک کا احسن انتظام اور دور دور ملکوں سے کتابوں کا اس ملک میں آجانا اور اس ملک سے ان ملکوں میں جانا یہ سب وسائل تحقیق حق کے ہیں جو خدا کے فضل نے ہمارے ملک میں موجود کر دیئے جن سے ہم پوری آزادی کے ذریعہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں یہ سب فوائد اس محسن اور نیک نیت گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہمیں ملے ہیں جس کے لئے بے اختیار ہمارے دل سے دعا نکلتی ہے لیکن اگر یہ سوال ہو کہ پھر ایسی مہذب اور دانا گورنمنٹ ایسے مذہب سے کیوں تعلق رکھتی ہے جس میں انسان کو خدا بنا کر سچے خدا کے بدیہی اور قدیم اور غیر متغیر اور جلال کی کسر شان کی جاتی ہے۔ تو افسوس کہ اس سوال کا جواب بجز اس کے کچھ نہیں کہ سلاطین اور ملوک کو جو ملک داری کا خیال واجبی حد سے بڑھ جاتا ہے لہٰذا تدبر اور تفکّر کی تمام قوتیں اسی میں خرچ ہوجاتی ہیں اور قومی حمایت کی مصلحت آخرت کے امور کی طرف سر اٹھانے نہیں دیتی اور اسی طرح ایک مسلسل اور غیر منقطع دنیوی مطالب کے نیچے دب کر خدا شناسی اور حق جوئی کی روح کم ہوجاتی ہے اور باایں ہمہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نومیدی نہیں کہ وہ اس باہمت گورنمنٹ کو صراط مستقیم