ناقابل برداشت وساوس کا سامنا ہے ایمانی سادگی بہت گھٹ گئی ہے اور فلسفیانہ خیالات نے جن کے ساتھ دینی معلومات ہمقدم
نہیں ہیں۔ ایک زہریلا اثر نو تعلیم یافتہ لوگوں پر ڈال رکھا ہے جو دہریت کی طرف کھینچ رہا ہے اور واقعی نہایت مشکل ہے کہ اس اثر سے بغیر حمایت دینی تعلیم کے لوگ بچ سکیں۔ پس وائے برحال اس
شخص کے جو ایسے مدرسوں اور کالجوں میں اس حالت میں چھوڑا گیا ہے جبکہ اس کو دینی معارف اور حقائق سے کچھ بھی خبر نہیں۔ ہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس عالی ہمت گورنمنٹ نے جو نوع
انسان کی ہمدرد ہے۔ اس ملک کے دلوں کی زمین کو جو ایک بنجر پڑا ہوا تھا اپنے ہاتھ کی کوششوں سے جنگلی درختوں اور جھاڑیوں اور مختلف اقسام کے گھاس سے جو بہت اونچے اور فراہم ہوکر
زمین کو ڈھک رہے تھے پاک کر دیا ہے اور اب قدرتی طور پر وہ وقت آگیا ہے جو سچائی کا بیج اس زمین میں بویا جائے اور پھر آسمانی پانی سے آبپاشی ہو۔ پس وہ لوگ بڑے ہی خوش نصیب ہیں جو اس
مبارک گورنمنٹ کے ذریعہ سے آسمانی بارش کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس گورنمنٹ کے وجود کو خداتعالیٰ کا فضل سمجھیں اور اس کی سچی اطاعت کے لئے ایسی کوشش
کریں کہ دوسروں کے لئے نمونہ ہو جائیں۔ کیا احسان کا عوض احسان نہیں۔ کیا نیکی کے بدلہ نیکی کرنا لازم نہیں سو چاہیے کہ ہریک شخص سوچ لے اورؔ اپنا نیک جوہر دکھلاوے۔ اسلامی شریعت کسی
کے حق اور احسان کو ضائع کرنا نہیں چاہتی۔ پس نہ منافقانہ طور پر بلکہ دل کی سچائی سے اس محسن گورنمنٹ سے اطاعت کے ساتھ پیش آنا چاہئے کیونکہ ہمارے دین کی روشنی پھیلانے کے لئے
پہلی تقریب