دین اسلام کی تائید کے لئے وہ وعظ کرسکتے ہیں جس کا خاص مکہ معظمہ میں میسر آنا ہمارے لئے غیر ممکن ہے اور اس گورنمنٹ نے نہ صرف اشاعت کتب اور اشاعت مذہب میں ہریک قوم کو آزادی دی بلکہ خود بھی ہر یک فرقہ کو بذریعہ اشاعت علوم و فنون کے مدد دی اور تعلیم اور تربیت سے ایک دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔ پس اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا یہ احسان بھی کچھ تھوڑا نہیں کہ وہ ہمارے مال اور آبرو اور خون کی جہاں تک طاقت ہے سچے دل سے محافظت کررہی ہے اور ہمیں اس آزادی سے فائدہ پہنچا رہی ہے جس کے لئے ہم سے پہلے بہتیرے نوع انسان کے سچے ہمدرد ترستے گذر گئے۔ لیکن یہ دوسرا احسان گورنمنٹ کا اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وہ جنگلی وحشیوں اور نام کے انسانوں کو انواع و اقسام کی تعلیم کے ذریعہ سے اہل علم و عقل بنانا چاہتی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی متواتر کوششوں سےؔ وہ لوگ جو قریب قریب مویشی اور چارپایوں کے تھے کچھ کچھ حصہ انسانیت اور فہم و فراست کا لے چکے ہیں اور اکثر دلوں اور دماغوں میں ایک ایسی روشنی پیدا ہوگئی ہے جو علوم کے حصول کے بعد پیدا ہوا کرتی ہے۔ معلومات کی وسعت نے گویا یک دفعہ دنیا کو بدل دیا ہے لیکن جس طرح شیشے میں سے روشنی تو اندر گھر کے آسکتی ہے مگر پانی نہیں آسکتا۔ اسی طرح علمی روشنی تو دلوں اور دماغوں میں آگئی ہے۔ مگر ہنوز وہ مصفّا پانی اخلاص اور رو بحق ہونے کا اندر نہیں آیا جس سے روح کا پودہ نشوونما پاتا اور اچھا پھل لاتا لیکن یہ گورنمنٹ کا قصور نہیں ہے بلکہ ابھی ایسے اسباب مفقود یا قلیل الوجود ہیں جو سچی روحانیت کو جوش میں لاویں۔ یہ عجیب بات ہے کہ علمی ترقی سے مکر اور فریب کی بھی کچھ ترقی معلوم ہوتی ہے اور اہل حق کو