آپ ان سے علاقہ بیعت بھی رکھتے تھے۔ تعجب نہیں کہ آپ کو ان کے الہام سے فائدہ پہنچے۔ عاجز کی غرض سوائے خیر خواہی اور اتفاق بین المسلمین اور کچھ نہیں مَیں حلفاًبیان کرتا ہوں وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًاکہ یہ الہام میں نے خود حضرت مرحوم سے سنا ہے۔ خدا کے لئے جاگتے دل سے سنو۔ وہو ہٰذا می بینم کہ محمد حسین پیراہنے کلان پوشیدہ است لاکن پارہ پارہ شدہ است۔ پھر آپ ہی یہ تعبیر فرمائی کہ آن پیراہن علم است کہ پارہ پارہ خواہد شد اور پارہ پارہ زبان سے کہتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سینہ سے لے کر پنڈلیوں تک بار بار اشارہ کرتے تھے۔ پھر عاجز کو فرمایا کہ آنرا با یدگفت کہ توبہ کردہ باشد۔ چنانچہ حسب الوصیت میں نے آپ کو یہ حال سنایا تھا۔ آپ نے عاجز کو چینیاں والی مسجد لاہور میں تمسخر آمیز الفاظ سے پیغام دیا تھا کہ ولی بننے جاتے ہیں عبد اللہ کو کہنا کہ مجھے بھی بلاوے۔ اس پیغام کے بعد انہوں نے ملا سفر کے روبرو الہام مذکور فرمایا اور میں نے امرتسر میں بمکان حافظ محمد یوسف صاحب جہاں حافظ عبد المنان رہتا تھا حرف بحرف آپ کو سنا دیا تھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ اس وقت آپ متاثر ہوگئے تھے۔ جس سے مطالعہ کتاب بھی چھوٹ گیا تھا۔ میں نے انہی دنوں اپنے گاؤں کے لوگوں کو بھی سنا دیا تھا جو وہ اب گواہی دے سکتے ہیں۔ غرضکہ یہ منذر الہام ان دنوں میں پورا ہوا جس کا اثر اب ظاہر ہوا کہ مرزا صاحب کے مقابل پر آپ کی ساری علمیت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور علم کے لاف و گزاف بھی ہیچ محض ثابت ہوئے۔ لہٰذا یہ الہام بے شک سچا ہے۔ مولوی صاحب میں نے وقت پر دوبارہ آپ کو یاد دلایا ہے آپ عبرت پکڑیں اور توبہ کریں اور اس مصلح اور مجدد اور امام کامل اور