حضرت عبد اللہ صاحب مرحوم غزنوی کا ایک کشف شیخ محمد حسین بطالوی کی نسبت جس کو جناب قاضی ضیاء الدین صاحب ساکن قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ نے اپنے کانوں سے سنا اور شیخ صاحب کی طرف محض اصلاح روحانی کے لئے لکھ کر روانہ کیا۔ سو وہ ہم اس رسالہ میں درج کرتے ہیں۔ اگرچہ شیخ صاحب کی نسبت ہمارا یقین ہے کہ وہ اس سے متنبہ ہونے والے نہیں لیکن ہم ان کے بعض ہم خیال اور محبوں پر ایک قسم کا حسن ظن رکھتے ہیں کہ وہ اس سے فائدہ حاصل کریں گے واللہ ولی التوفیق وہ کشف ذیل میں درج ہے۔ خاکسار سراج الحق نعمانی ھُوَ الْہَادِیْ بِسْمِ اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ و نصلّیمکرمی مولوی محمد حسین صاحب بعد شوق ملاقات آنکہ یہ جو آج کل آپ دربارہ تکفیر و تضلیل حضرت مسیح موعود میرزا غلام احمد صاحب قادیانی جن کو آپ پہلے مجدد وقت تسلیم کرچکے ہیں سرگرم ہیں اور یہاں تک سرگرمی ہے کہ آپ نے اپنے لکھے ہوئے مضمون کفر و کافر مندرجہ اشاعہ کی بھی پرواہ نہیں کی جس کی شامت سے اب صریح سوء خاتمہ کے آثار ظاہر ہیں آپ کی اس حالت کو دیکھ کر عاجز کا دل بلحاظ حبّ بنی نوع پگھل آیا لہٰذا بحکم اَلدِّیْنُ اَلنَّصِیْحَۃُ مَیں نے چاہا کہ آپ کو اس شیمہ نامرضیہ سے للہ متنبہ کروں شاید اللہ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہے رحم فرماوے اور اس بارے میں یہ ایک الہام عبد اللہ غزنوی مرحوم ہے جو آپ کی نسبت ان کو ہوا تھا اور اسی زمانہ میں آپ کو سنا بھی دیا تھا شائد وہ آپ کو یاد ہو یا نہ ہو اب میں آپ کو دوبارہ سناتا ہوں اور مجھے کئی بار تجربہ ہوچکا ہے کہ مولوی لوگ اپنے ہم عصر کی بات سے گو کیسی ہی مفید ہو کم متاثر ہوتے ہیں اب وہ مرحوم تو فوت ہوچکے شاید