اُن صاحبوں کے نام جو آجکل حضرت امام کامل کی خدمت میں حاضر ہیں (۱) حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی (۲) حکیم فضل الدین صاحب بھیروی (۳) مولوی قطب الدین صاحب بدوملی (۴) صاحبزادہ افتخار احمد صاحب لدھیانہ (۵) صاحبزادہ منظور محمد صاحب لدھیانہ (۶) مولوی عنایت اللہ صاحب مدرس مانانوالہ ضلع گوجرانوالہ (۷) قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹی ضلع گوجرانوالہ (۸) خلیفہ نور الدین صاحب جموں (۹) سید ناصر نواب صاحب دہلوی (۱۰) شیخ عبد الرحیم صاحب* (۱۱) شیخ عبد العزیز صاحب (۱۲) حاجی وریام صاحب خوشابی (۱۳) ثناء اللہ صاحب خوشابی (۱۴) مولوی خدا بخش صاحب جالندھری (۱۵) عبد الکریم صاحب خوشنویس (۱۶) شیخ غلام محی الدین صاحب کتب فروش جہلمی (۱۷) شیخ حامد علی صاحب (۱۸) میرزا اسمٰعیل صاحب قادیانی (۱۹) سید محمد کبیر دہلوی (۲۰) خدا بخش صاحب ماڑوی ضلع جھنگ (۲۱) حاجی حافظ * حاشیہ: شیخ عبد الرحیم صاحب جوان صالح اور متقی شخص ہیں ان کے ایمان اور اسلام پر ہمیں بھی رشک پیدا ہوتاہے ان کو اسلام لانے کے وقت کئی اک سخت ابتلا پیش آئے لیکن انہوں نے ایسے سخت ابتلاء کے وقت بڑی ثابت قدمی اور استقامت دکھلائی محض ابتغاءً لمرضات اللہ دفعہ داری چھوڑ کر قادیان میں امام کامل کے ہاتھ پر اسلام و بیعت سے مشرف ہوئے قرآن شریف سے کامل اُلفت ہے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے معہ ترجمہ اور تفسیر قرآن چند ماہ میں پڑھا ۔ شیخ عبد اللہ صاحب جوان صالح ہیں۔ رشد کے آثار اور اتقا کے نشان ان کے بشرہ سے ظاہر ہوتے ہیں۔ جب انہوں نے اسلام کی طرف میلان کیا تو کئی ابتلاء پیش آئے۔ از انجملہ ایک یہ ہے کہ لیکھرام آریہ سے کئی بار مباحثہ ہوا آخر کار لیکھرام کو انہوں نے شکست فاش دی چونکہ آریہ تھے اس تعلیم خراب سے دستبر دار ہوکر اسلام زور شور سے قبول کیا اور امام وقت سے بیعت کی یہ مجھ سے کہتے تھے کہ ازالہ اوہام کے دیکھنے سے مجھے اسلام کا شوق پیدا ہوا اور جب پیشگوئی (جو آتھم کے