کو زندہ کر رہا ہے۔ ہمارا حامی و مددگار ہو رہا ہے ہمارے دشمنان دین کو زیر قدم کر رہا ہے کرامت کا جو آج کل بے نام و نشان ہے دعویٰ کر رہا ہے۔ جیسا کہ لائق ہے اس پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں۔ ویل ان لوگوں پر جو ایسا خیال رکھتے ہیں فی زمانہ فلسفہ طبعی والوں کے نزدیک کرامت کوئی چیز نہیں۔ دیکھئے فرقہ نیچریہ عجب ڈھب کا نکلا ہے کہ جس وقت ایسی بحث آکر ہوتی ہے تو فوراً کہہ دیتے ہیں کوئی نہیں کر کے دکھلائے اگر کرامت کا قائل ہے اگر کرامت یا معجزات نعوذ باللہ بے وجود سمجھے جاتے ہیں تو اس کا اثر بد کہاں تک پہنچتا ہے یہ شکر کا مقام تھا کہ ہماری کشتی جو بھنور میں چکرا رہی تھی ایک ملاح نے اس کو آکر نکال لیا اس کو تسلیم کرتے نہ اس پر الزام کذب و فریب لگاتے۔ اس وقت یہ بندہ کہتا ہے کہ جیسا مجھ کومعلوم ہوا ہے اور وہ حق ہے تو بے شک امام ہمام میرزا غلام احمد صاحب مُجَدّد وقت ہیں اور میں بصد اشتیاق ان کے دیدار کا طالب ہوں اور شب و روز اللہ جلّ و علیٰ سے مستدعی ہوں کہ اگر مرزا صاحب کو تو نے حق پر بھیجا ہے تو مجھ کو بھی ان کی زیارت سے مشرف کر اور اُسی جماعت مومنین سے شمار کیا جاؤں میں پہلے متذبذب تھا اب یقیناً بعد دریافت ثبوت صحیحہ کہتا ہوں کہ جو میں نے لکھا ہے سب صحیح اور حق ہے اور میں انہیں مجدد صادق سمجھتا ہوں۔ والسلام۔ الراقم: عضد الدین از بچھرایوں ضلع مراد آباد