گورنمنٹ کو روک دیں۔ کیونکہ اخبار ٹائمز نے اب پھر زور شور سے اس قانون کو دوبارہ جاری کرنے کے لئے سلسلہ جنبانی کی ہے یہ سب باتیں اس بات پر گواہ ہیں کہ انجیل کی تعلیم ناقص ہے۔ اور اس میں تمدن کے ہریک پہلو کا لحاظ نہیں کیا گیا۔ باقی آئندہ۔ انشاء اللہ۔ الراقم : میرزا غلام احمد قادیانی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی مَا مَضٰی وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ علٰی ما بقی والصّلٰوۃ وَالسَّلَامُ علٰی مُحَمَّدٍ خَےْر الورٰی وَ اَھْلَ بَیْتِ الْمُصْطَفٰی و علی المؤمنین بنبیّہ المجتبٰی: محبان اہل اسلام کو واضح ہو کہ اس عرصہ میں ایک کتاب نُور الحَق مرسلہ امام الہمام میرزا غلام احمد صاحب قادیانی میرے پاس پہنچی اس کو میں نے دیکھا اور نیز کچھ تحریرات متعلقہ محمد حسین بطالوی نظر سے گذریں۔ جن کو دیکھ کر سخت افسوس ہوا کہ باوجود اس فہم و ذکا اور شہرہ آفاق ہونے کے اور چند عرصہ تک میرزا صاحب کی قدم بوسی حاصل کرنے کے اور ثنا گو ہونے کے بھی یکبارگی ایسے لوٹے کہ کفر تک نوبت پہنچا دی (ببیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا) حالانکہ زمانہ کی بھی کیفیت مثل آئینہ کے کھل رہی ہے اور دیکھ رہے ہیں کہ قوم دجّال پوری دجالیت کر رہی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کا فرمانا صادق ہوتا جاتا ہے اور اس پر بھی مقصد لِکُلّ فرعون موسٰیکا نہیں سمجھتے اور کیونکر سمجھ سکتے ہیں جبکہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۔۱؂ اسی جگہ پر قدرت کبریائی نظر آتی ہے کہ جس کسی کو گمراہ کرانا منظور ہوتا ہے تو ایسے ہی اسباب پیدا کر دیتا ہے۔ جن باتوں کو علماء محققین نکات ٹھہراتے تھے یہ صاحب کفریات جانتے ہیں زمانہ کے حال کو بھولے جاتے ہیں آج جو ہمارے پیغمبر آخرالزمان کے جھنڈے کا پھریرہ اڑا رہا ہے اور اس کے دین