جسمانی نعمتوں کے وعدے نہ دیئے جاتے۔ کیا یسوع نے یہ نہیں کہا کہ میں بہشت میں شیرہ انگور پیوں گا۔ عجیب یسوع ہے۔ جو مسلمانوں کی بہشت میں داخل ہونے کی تمنا رکھتا ہے۔ جس میں جسمانی نعمتیں بھی ہیں۔ اور پھر عجیب تر یہ کہ جسمانی نعمتوں پر ہی گرا۔ دیدار الٰہی کا ذکر نہیں کیا۔ لعاذر سے پانی مانگنا بھی ذرہ یاد کرو۔ جس بہشت میں پانی نہیں۔ اس میں پانی کا ذکر مصداق اس مثل کا ہے کہ دروغ گو را حافظہ نبا شد۔ یہ سچ ہے کہ بہشت میں رہنے والے فرشتوں کی طرح ہو جائیں گے مگر یہ کہاں ثابت ہے کہ تبدیل خواص کر کے فی الحقیقت فرشتے ہی ہو جائیں گے *اور انسانی خواص چھوڑ دیں گے۔ ہاں یہ درست ہے کہ بہشت میں دنیا کی طرح نکاح نہیں ہوتے مگر بہشتی طور پر جسمانی لذات تو ہوں گے جیسے یسوع کو بھی انکار نہیں تھا ۔ شیرۂ انگور پینے کی امید کرتا گذر گیا۔ توریت سے ثابت ہے کہ جسمانی جزا بھی خدا کی عادت ہے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ وہ غیر متبدل خدا قیامت کو اپنی عادتیں بدل ڈالے۔ تیسرا ؔ اعتراض آپ کا یہ ہے کہ اسلامی تعلیم میں ہے کہ جب تک کوئی کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو جائے تب تک ایسے شخص سے مواخذہ نہ ہوگا اور محض دلی خیالوں پر خدا پُرسش نہیں کرے گا مگر انجیل میں اس کے خلاف ہے یعنی دلی خیالات پر بھی عذاب ہوگا۔ اما الجواب۔ پس واضح ہوکہ اگر انجیل میں ایسا ہی لکھا ہے تو ایسی انجیل ہرگز خدا تعالیٰ *نوٹ: درحقیقت فرشتے بن جانا اور بات ہے۔ مگر پاکیزگی میں اُن سے مشابہت پیدا کرنا یہ اوربات ہے۔ منہ