حوصلہ ہے کہ آرام سے آدمی بن کر مجھ سے آکر بحث کرلے کہ بہشت کے بارے میں روحانی جزا کا بیان انجیل میں زیادہ ہے یا قرآن میں۔ اور اگر انجیل میں زیادہ نکلے تو مجھ سے نقد ہزار روپیہ لے لے جہاں چاہے جمع کرا لے۔ مجھے امید نہیں کہ کوئی میرے سامنے آوے۔ اللہ اللہ کیسی یہ قوم ظالم اور دغا باز ہے جنہوں نے دنیا کی زندگی کے لئے آخرت کو بھلا دیا ہے مگر ذرہ موت کا پیالہ پی لیں پھر دیکھیں گے کہ کہاں ہے یسوع اور اس کا کفارہ۔ ہائے افسوس ان لوگوں نے ایکؔ عاجز انسان اور عاجزہ کے بیٹے کو خدا بنا دیا اور خدائے قدوس پر تمام نالائق باتیں روا رکھیں۔دنیا میں ایک ہی آیا جو سچی اور کامل توحید کو لایا اس سے انہوں نے دشمنی کی۔ اور یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ انجیل میں جسمانی جزا کی طرف کوئی اشارہ نہیں۔ دیکھو متی کیسی تفصیل سے یسوع کا قول جسمانی جزا کے بارے میں بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے:۲۹۔ اور جس نے گھر یا بھائی یا بہن یا باپ یا جورو یا بال بچوں یا زمین کو میرے نام پر چھوڑا سو گنا پاوے گا۔ ۱۹ باب آیت ۲۹۔ دیکھو یہ کیسا صریح حکم ہے اس میں تو یہ بھی بشارت ہے کہ اگر عیسائی عورت یسوع کے لئے خاوند چھوڑے تو قیامت کو اسے سو خاوند ملیں گے۔ اور اگر جسمانی نعمتوں کا وعدہ کرنا خدا تعالیٰ کی شان کے مخالف ہوتا تو توریت خروج ۳ باب ۸ آیت۔استثناء ۶ باب ۳ آیت۔۷ باب ۱۳ آیت۔ ۸ باب ۱۷ آیت اور۔قاضی ۹ باب ۱۲ آیت اور استثناء۳۲ باب ۱۴آیت۔ استثناء ۱۶ باب ۲۰ آیت اور احبار ۲۶ باب ۳ آیت۔احبار ۲۵ باب۔ ایوب ۲۰ باب ۱۵ آیت میں ہرگز