مخالف ہے۔ جو آپ کے یسوع صاحب سے ظہور میں آیا۔ کیا اس کے روٹی کھانے سے حواریوں کا پیٹ بھر جاتا تھا پھر کیونکر اس کی خودکشی دوسرے کو مفید ہوسکتی ہے انجیل کی ساری تعلیم ایسی گندی اور ناقص ہے کہ حرف حرف پر سخت اعتراض ہے اور اس کے مؤلف کو خبر ہی نہیں کہ تقویٰ کس کو کہتے ہیں اور گناہ کے باریک مراتب کیا ہیں بے چارہ بچوں کی طرح باتیں کرتا ہے افسوس کہ اس وقت ہمیں فرصت نہیں کہ ان تمام یسوع کی باتوں کی قلعی کھولیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ دوسرے وقت میں دکھائیں گے اور ثابت کریں گے کہ یہ شخص بالکل تقویٰ کے طریق سے ناواقف ہے اور اس کی تعلیم انسانی درخت کے کسی شعبہ کی بھی آب پاشی نہیں کرسکتی۔ جانتا ہی نہیں کہ انسان کن کن قوتوں کے ساتھ اس مسافر خانہ میں بھیجا گیا ہے اور اسے خبر ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ مقصود نہیں کہ ان تمام قوتوں کو زائل کر دیوے بلکہ یہ مطلب ہے کہ ان کو خط اعتدال پر چلاوے پس ایسی ناقص تعلیم کو قرآن شریف کے سامنے پیش کرنا سخت ہٹ دھرمی اور نابینائی اور بے شرمی ہے۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ حضرت مقدس نبوی کی تعلیم یہ ہے کہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہنے سے گناہ دور ہو جاتے ہیں یہ بالکل سچ ہے اور یہی واقعی حقیقت ہے کہ جو محض خدا کو واحد لا شریک جانتا ہے اور ایمان لاتا ہے کہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی قادر یکتا نے بھیجا ہے تو بے شک اگر اس کلمہ پر اس کا خاتمہ ہو تو نجات پا جائے گا آسمانوں کے نیچے کسی کی خودکشی سے نجات نہیں ہرگز نہیں۔ اور اس سے زیادہ کون پاگل ہوگا کہ ایسا خیال بھی کرے مگر خدا کو واحد لا شریک