کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور تجربہ بلند آواز سے بلکہ چیخیں مار کر ہمیں بتلا رہا ہے کہ بیگانہ عورتوں کو دیکھنے میں ہرگز
انجام بخیر نہیں ہوتا یورپ جو زناکاری سے بھر گیا اس کا کیا سبب ہے۔ یہی تو ہے کہ نامحرم عورتوں کو بے تکلف دیکھنا عادت ہوگیا اول تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں اور پھر معانقہ بھی ایک معمولی امر
ہوگیا پھر اس سے ترقی ہوکر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی یہاں تک کہ استاد جوان لڑکیوں کو اپنے گھروں میں لے جاکر یورپ میں بوسہ بازی کرتے ہیں اور کوئی منع نہیں کرتا شیرینیوں پر فسق و
فجور کی باتیں لکھی جاتی ہیں تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھایا جاتا ہے عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسے اور آنکھ ایسی ہے اور ان کے
عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہ رہا ہے کہ نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوں کو نہ منہ کو۔ یہ یسوع صاحب کی تعلیم ہے۔ کاش! ایسا شخص دنیا میں
نہ آیا ہوتا۔ تا یہ بدکاریاں ظہور میں نہ آتیں اس شخص نے پارسائی اور تقویٰ کا خون کردیا اور الحاد اور اباحت کو تمام ملک میں پھیلا دیا کوئی عبادت نہیں کوئی مجاہدہ نہیں بجز کھانے پینے اورؔ
بدنظریوں کے اور کوئی بھی فکر نہیں پھر زہر پر زہر یہ کہ ایک جھوٹے کفارہ کی امید دے کر گناہوں پر دلیر کر دیا کون عقلمند اس بات کو باور کرے گا کہ زید کو مُسہل دیا جائے اور بکر کے زہریلے
مواد اس سے نکل جائیں بدی حقیقی طور پر تبھی دور ہوتی ہے کہ جب نیکی اس کی جگہ لے لے۔ یہی قرآنی تعلیم ہے کسی کی خودکشی سے
دوسرے کو کیا فائدہ۔ کس قدر یہ نادانی کا خیال اور
قانون قدیم کے