سمجھنا اور ایسا مہربان خیال کرنا کہ اس نے نہایت رحم کرکے دنیا کو ضلالت سے چھڑانے کے لئے اپنا رسول بھیجا جس کا
نام محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہے یہ ایک ایسا اعتقاد ہے کہ اس پر یقین کرنے سے روح کی تاریکی دور ہوتی ہے اور نفسانیت دور ہوکر اس کی جگہ توحید لے لیتی ہے آخر توحید کا زبردست
جوش تمام دل پر محیط ہوکر اسی جہان میں بہشتی زندگی شروعؔ ہوجاتی ہے۔ جیسا تم دیکھتے ہوکہ نور کے آنے سے ظلمت قائم نہیں رہ سکتی ایسا ہی جب لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ کا نورانی پرتوہ دل پر پڑتا ہے
تو نفسانی ظلمت کے جذبات کالمعدوم ہو جاتے ہیں گناہ کی حقیقت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ سرکشی کی ملونی سے نفسانی جذبات کا شور و غوغا ہو جس کی متابعت کی حالت میں ایک شخص کا نام
گناہ گار رکھا جاتا ہے اور لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ کے معنی جو لغت عرب کے موارد استعمال سے معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ لَا مَطْلُوْبَ لِیْ وَ لَا مَحْبُوبَ لِیْ وَ لَا مَعْبُوْدَ لِیْ وَ لَا مُطَاعَ لِیْ اِلَّا اللّٰہُ یعنی بجز اللہ کے
اور کوئی میرا مطلوب نہیں اور محبوب نہیں اور معبود نہیں اور مطاع نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ معنی گناہ کی حقیقت اور گناہ کے اصل منبع سے بالکل مخالف پڑے ہیں پس جو شخص ان معنی کو
خلوص دل کے ساتھ اپنی جان میں جگہ دے گا تو بالضرورت مفہوم مخالف اس کے دل سے نکل جائے گا کیونکہ ضدّین ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں پس جب نفسانی جذبات نکل گئے تو یہی وہ حالت ہے۔
جس کو سچی پاکیزگی اور حقیقی راست بازی کہتے ہیں اور خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لانا جو دوسرے جز کلمہ کا مفہوم ہے اس کی ضرورت یہ ہے کہ تاخدا کے کلام پر بھی ایمان حاصل ہو
جائے کیونکہ جو شخص یہ اقرار کرتا