کے یسوع صاحب کا قول متی نے یہ لکھا ہے کہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو کوئی شہوت سے کسی عورت پر نگاہ کرے۔ وہ اپنے دل میں اس کے ساتھ زنا کرچکا لیکن قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ نہ تو شہوت سے اور نہ بغیر شہوت کے بیگانہ عورت کے منہ پر ہرگز نظر نہ ڈال اور ان کی باتیں مت سن اور ان کی آواز مت سن اور ان کے حسن کے قصے مت سن کہؔ ان امور سے پرہیز کرنا تجھے ٹھوکر کھانے سے بچائے گا جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۱؂۔ یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم کو دیکھنے سے اپنی آنکھوں کو بند رکھیں اور اپنے کانوں اور ستر گاہوں کی حفاظت کریں یعنی کان کو بھی ان کی نرم باتوں اور ان کی خوبصورتی کے قصوں سے بچاویں کہ یہ سب طریق ٹھوکر کھانے کے ہیں۔ اب اگر بے ایمانی کے زہر دل میں نہیں تو ایسی تعلیم سے یسوع کی تعلیم کا مقابلہ کرو اور پھر نتائج پر بھی نظر ڈالو یسوع کی تعلیم نے عام آزادی کی اجازت دے کر اور تمام ضروری شرائط کو نظر انداز کر کے تمام یورپ کو ہلاک کر دیا یہاں تک کہ ان سب میں خنزیروں اور کتوں کی طرح فسق و فجور پھیلا۔ اور بے حیائی اس حد تک پہنچ گئی کہ شیرینیوں پر اور ولایت کی مٹھائیوں پر بھی یہ لفظ لکھے جاتے ہیں۔ کہ اے میری پیاری ذرا مجھے بوسہ دے۔ یہ تمام گناہ کس کی گردن پر ہے۔ بے شک اس یسوع کی گردن پر جس نے ایسی تعلیم دی کہ ایک جوان مرد یا عورت دوسرے پر نظر ڈالے مگر زنا کا قصد نہ کرے۔ اے نادان کیا زنا کا قصد اختیار میں ہے۔ جو شخص آزادی سے نامحرم عورتوں کو دیکھتا رہے گا آخر ایک دن بدنیتی سے بھی دیکھے گا۔ کیونکہ نفس کے جذبات ہریک طبیعت