آپ اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ کسی امر کا جواب دینا اور بات ہے مگر معقول طور پر جواب دینا اور بات ہے۔ اب بتاؤ معقولی
طور پر یہ جواب ہیں یا نہیں۔ اور ابھی وقت آیا یا نہیں کہ ہم لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین کہہ دیں۔
آپ نے یہ بھی خط میں لکھا ہے کہ محمدی لوگ جواب تو دیتے ہیں مگر وہ عقل کے سامنے جواب نہیں
سمجھے جاتے اب ہمارے یہ تمام جواب آپ کے سامنے ہیں اس کو چند منصفوں کو دکھلاؤ کہ کیا یہ عقل کے سامنے جواب ہیں یا نہیں۔ کیا آپ امید رکھتے ہیں کہ جو انجیل پر اعتراض ہم نے کئے ہیں
آپ ان کا کچھ جواب دے سکیں گے ہرگز ممکن نہیں وہ دن آپ پر کبھی نہیں آئے گا کہ ان اعتراضات کے جواب سے سبکدوش ہوسکیں۔
پھر آپ کا ایک یہ وسوسہ ہے کہ کامل گناہ کا بیان انجیل میں
ہی ہے لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انجیل تقویٰ کی راہوں کو کامل طور پر بیان نہیں کر سکی اور نہ انجیل نے ایسا دعویٰ کیا مگر قرآن شریف نے تو اپنے نزول کی علّت غائی ہی یہ
قرار دی ہے کہ تقویٰ کی راہوں کو سکھائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱ ۔ یعنی یہ کتاب اس غرض سے اتری ہے کہ تا جو لوگ گناہ سے پرہیز کرتے ہیں ان کو باریک سے باریک گناہوں پر بھی
اطلاع دی جائے تاوہ ان بُرے کاموں سے بھی پرہیز کریں جو ہریک آنکھ کو نظر نہیں آتے بلکہ فقط معرفت کی خوردبین سے نظر آسکتے ہیں اور موٹی نگاہیں ان کے دیکھنے سے خطا کر جاتی ہیں مثلاً
آپ